حج

1642

نسک اور تلبیہ

نسک

نسک کی تعریف

نسک لغت میں

عبادت کو کہتے ہیں

نسک شریعت کی اصطلاح میں

حاجی یا عمرہ کرنے والا جو کچھ کہتا یا کرتا ہے کو کہتے ہیں

نسک کی نیت

جب احرام کا اردہ کرنے والا غسل ، پاکی ، اور احرام کا لباس پہننے سے فارغ ہوا اور سلے ہوئے کپڑے اس نے اتاردیے تو وہ حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کی عبادت میں داخل ہونے کی نیت کرے گا۔

اور مستحب یہ ہے کہ وہ جس عبادت کی نیت کرتا ہے اس پر تلفظ بھی کرے پس عمرہ اور حج تمتع کے ارادے کے وقت کہے گا “ یااللہ میں عمرہ اور حج تمتع کے ساتھ حاضر ہوں”

یا کہے “ یا اللہ میں حج کے ساتھ حاضر ہوں” اور حج کے وقت کہے گا “ یا اللہ میں حج کے ساتھ حاضر ہوں اور حج قران کا اردہ رکھنے والا کہے گا “ یااللہ میں حج کا ارادہ رکھتا ہوں یا حج کے ساتھ حاضر ہوں” اور حج و عمرہ کے درمیان قران کا ارادہ رکھنے والا کہے گا “ اے اللہ میں حج و عمرہ کے ساتھ حاضر ہوں”

حضرت انس کی حدیث کی وجہ سے وہ فرماتے ہیں: " میں نے رسول اللہﷺ سے سنا فرما رہے تھے اے اللہ میں حج و عمرہ کے ساتھ حاضر ہوں۔ "[ يہ حديث متفق عليہ ہے]

اور اگر اس نے کسی چیز پر بھی تلفظ نہیں کیا تو صرف دل کی نیت بھی کافی ہے۔

نسک کی اقسام

1-حج تمتع

وہ یہ ہے کہ انسان حج کے مہینوں میں عمرہ کا احرام باندھے اور عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد احرام کھول دے اور اپنے آپ کو حلال کرلے پھر اسی سال حج کا بھی احرام باندھے متمتع جب مکہ پہنچتا ہے تو وہ عمرہ کے اعمال ادا کرتے ہوئے طواف ، سعی ، حلق یا قصر کرکے اپنے آپ کو احرام سے حلال کرتا ہے

اور کپڑے پہن لیتا ہے پس جب ذوالحجہ کا آٹھواں دن آتا ہے تو وہ حج کا احرام باندھ لیتا ہے اور حج کے اعمال ادا کرتا ہے اور اس پر قربانی واجب ہے حج تمتع کی وجہ سے۔

2-حج قران

حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ کا ایک ہی دفعہ احرام باندھا جائے یا انسان عمرہ کا احرام باندھے اور طواف شروع کرنے سے پہلے اس پر حج کے ایام آجائیں اور قارن اس وقت تک احرام نہیں کھولتا جب تک وہ حج کے اعمال سے فارغ نہیں ہو جاتا اور اس پر حج قران کی وجہ سے قربانی لازم ہے۔

3-افراد

حج افراد یہ ہے کہ حاجی صرف حج کا احراام باندھے اور حج کے اعمال سے فارغ ہوئے بغیر احرام نہ کھولے او ر اس پر قربانی نہیں ہے۔

سب سے بہترین حج حج تمتع ہے کیونکہ رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ کو اسکا حکم دیا تھاپھر حج قران اور آخر میں حج افراد ہے۔ [يہ صحيح مسلم کی حديث ہے جو جضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسےمروی ہے]

تین مناسک میں فرق

- حج تمتع حج قِران حج إفراد
تعريف عمره اور پھر حج عمره اور حج صرف حج
احرام وه دو مرتبه احرام باندھے گا ، پهلا عمره كيلئے، پھر وه احرام اتار دے گا ، پھر احرام باندھے گا حج كيلئے ايك هي مرتبه احرام باندھے گا حج اور عمره كيلئے ايك مرتبه احرام باندھے گا صرف حج كيلئے
لبيك كهے گا پهلے احرام كے وقت لبيك عمره پڑھے گا پھر حج كے احرام كيلئے لبيك حجا پڑھے گا يا وه كهے گا «لبيك عُمْرَة متمتعًا بها إلى الحج» احرام باندھتے وقت كهے گا «لبيك عُمْرَة وحجًّا». احرام باندھتے وقت كهے گا«لبيك حجًّا».
قرباني اسميں قرباني واجب هے اسميں قرباني واجب هے اسميں قرباني واجب هے
طواف اسميں دو مرتبه طواف كرے گا، پهلا عمره كيلئے اور دوسرا حج كيلئے اسميں ايك مرتبه طواف كرنا ضروري هے اور وه حج كيلئے هوگا اسميں ايك مرتبه طواف كرنا ضروري هے اور وه حج كيلئے هوگا
سعي اسميں دو مرتبه سعي كرے گا ، پهلي مرتبه عمره كيلئے اور دوسري مرتبه حج كيلئے اسميں ايك مرتبه سعي هوگي اور وه سعي صرف حج كيلئے هوگي اسميں ايك مرتبه سعي هوگي اور وه سعي صرف حج كيلئے هوگي

تلبیہ

تلبیہ کی تعریف

تلبیہ

تلبیہ محرم کے “لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ” کو کہتے ہیں

عبداللہ بن عمر کی حدیث کی وجہ سے کہ رسول اللہﷺ کا تلبیہ اسی طرح تھا۔[ يہ حديث متفق عليہ ہے]

“لبيك اللهم لبيك” کا مطلب ہے حاضر ہوں حاضر ہونے کے بعد تلبیہ اللہ تعالیٰ کی ثناء ، شکر، حکم کی تابعداری، توحید کے اظہار اور شرک سے بیزاری پر مشتمل ہے۔

تلبیہ کا حکم

تلبیہ سنت ہے ، مرد اسے اونچی آواز سے پڑھتا ہے اور عورت فتنے کے خوف سے پست آواز سے پڑھتی ہے ۔

تلبیہ کا وقت اور اسکے مقامات

محرم تلبیہ احرام کے فورا بعد شروع کردے اور خصوصا جب وہ راستے میں ہو تو زیادہ زیادہ تلبیہ کہے۔

اور بعض مقامات پر تلبیہ کی تاُکید کی گئی ہے۔جب وہ اونچائی کی طرف جائے یا وہ ڈھلان کی طرف چل رہا ہو یافرض نماز کے بعد اورصبح یا شام کو بھی ضروری قرار پايا ہے۔

عمرہ میں دو مقامات پر تلبیہ ترک کرنا ہوگا جیسے جب وہ بیت اللہ کو دیکھے اورحجر اسود کا استلام کرے اور حج میں حاجی عید کے دن جمرۃ العقبۃ کی رمی شروع کرے۔