روزہ

1766

اعتکاف

اعتکاف کی تعریف

اعتکاف کا لغوی مطلب

اعتکاف لغت میں کسی چیز کو اپنے اوپر لازم کرنے اور اپنی جان کواس میں بند کرنے کو کہتے ہیں۔

اعتکاف شریعت کی اصطلاح میں۔

اللہ کی عبادت کے لیے مسجد اپنے اوپر لازم کرنے کو کہتے ہیں۔

اعتکاف کی مشروعیت

اعتکاف فضیلت کے کاموں اور بڑی عبادات میں سے ایک عبادت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں "رسول اللہﷺ اس فانی دنیا سے پردہ فرمانے تک رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات اعتکاف کیا کرتی تھیں " [اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

اعتکاف ہم اور ہم سے پہلی امتوں کے لیے جائز قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ میں فرماتے ہیں " ہم نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو "

اعتکاف کا حکم

اعتکاف ہر وقت سنت ہے اور سب سے بہتر رمضان کا آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا ہے کیونکہ رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں ہمیشہ اعتکاف کیا کرتے تھے۔ [ دیکھیے زاد المعاد]

اعتکاف کی شرطیں

1- اعتکاف کی نیّت کرنا

اعتکاف کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ ثواب اور اللہ کی عبادت کی نیت سے مسجد کو لازم پکڑنے کی نیت کر لے کیونکہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں " اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہوتا ہے " [اس حدیث پر امام بخاری اور امام مسلم کا اتفاق ہے]

2۔ دوسری شرط یہ ہے کہ جس مسجد میں اعتکاف کیا جا رہا ہو اس میں باجماعت نماز ہوتی ہو۔

اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کے بغیر یا علاوہ اعتکاف ٹھیک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " اور عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو " اور رسول اللہ ﷺ بھی ہمیشہ مسجد میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔

اور مسجد بھی ایسی ہو جس میں با جماعت نماز ہوتی ہو کیونکہ اگر وہ ایسی مسجد میں اعتکاف کرتا ہے جس میں باجماعت نماز نہ ہوتی ہو تو اس سے جماعت کا ترک کرنا لازم آتا ہے اور باجماعت نماز پڑھنا واجب ہے

اور اگر وہ باجماعت نماز پڑھنے کے لیے کسی اور مسجد میں جاتا ہے تو اس سے مسجد سے بار بار نکلنا لازم آتا ہے جو کہ اعتکاف کے مقصود کے خلاف ہے۔

البتہ عورت کا اعتکاف ہر مسجد میں جائز ہے چاہے اس میں باجماعت نماز ہوتی ہو یا نہ ہوتی ہو اور یہ اس وقت ہے جب عورت کے اعتکاف کرنے سے کسی فتنہ کا خطرہ نہ ہو اور اگر کسی فتنے کا خطرہ ہو تو پھر اسے اعتکاف کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

اور بہتر یہ ہے کہ آدمی اس مسجد میں اعتکاف کے لیے بیٹھے جس میں جمعہ کی نماز بھی ہوتی ہو لیکن یہ اعتکاف کے لیے شرط نہیں ہے۔

باتصویر جامع مسجد

3۔ تیسری شرط اعتکاف کرنے والے کے لیے یہ ہے کہ وہ بڑی ناپاکی سے پاک ہو۔

پس جو آدمی غسل میں ہو اس کا اعتکاف جائز نہیں اور اسی طرح جو عورت حیض یا نفاس میں ہوتی ہے وہ بھی اعتکاف نہیں کر سکتی کیونکہ ان کا مسجد میں ٹھہرنا ہی جائز نہیں۔

اعتکاف کے لیے روزہ شرط نہیں ہے۔

روزہ اعتکاف کے لیے شرط نہیں ہے کیونکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میرے والد (عمر فاروق رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہﷺ سے پوچھا میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر یہ نذر کیا تھا کہ میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کرونگا، رسول اللہﷺ نے فرمایا (اپنی نذر کو پورا کرو) [اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

اگر روزہ اعتکاف کے لیے شرط ہوتا تو پھرعمر فاروق رضی اللہ عنہ کا رات کے وقت اعتکاف ٹھیک نہ ہوتا کیونکہ رات کے وقت روزہ نہیں ہوتا اور اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہﷺ نے شوال کے پہلے دس دنوں میں بھی اعتکاف کیا اور شوال کے پہلے دس دنوں میں عید کا دن بھی آتا ہے جس دن روزہ رکھنا حرام ہے اور اس لیے بھی روزہ شرط نہیں کیونکہ یہ دونوں مستقل عبادتیں ہیں تو ایک کےوجود کے لیے دوسرے کا وجود شرط نہیں۔

اعتکاف کا وقت اور زمانہ

اعتکاف ہر روز اور ہر وقت جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اعتکاف ایک دن یا ایک رات سے کم نہ ہو کیونکہ ایک دن یا ایک رات سے کم وقت کا اعتکاف نہ رسول اللہﷺ اور نہ ہی ان کے صحابہ کرام سے منقول ہے۔

رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کا بیان۔

رمضان کا آخری عشرہ اعتکاف کے اوقات میں سے سب سے بہتر وقت ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں " رسول اللہﷺ اس فانی دنیا سے پردہ فرمانے تک رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور ان کے بعد ان کی ازواج مطہرات اعتکاف کیا کرتیں تھیں " [اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

اور جس کسی نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کی نیت کی تو وہ اکیسویں رات کے صبح کی نماز اس مسجد میں جس میں اس نے اعتکاف کا ارادہ کیا ہے ادا کرے اور اعتکاف کے لیے بیٹھ جائے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں "رسول اللہ ﷺ ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے تھے اور جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اس جگہ چلے جاتے تھے جہاں انہوں نے اعتکاف کی نیت کی ہوتی تھی " [اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

اور رمضان المبارک کے آخری دن کا روزہ افطار کرتے ہی اعتکاف ختم ہو جاتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ وہ عید کی صبح کو مسجد سے نکلے اور یہی بزرگوں سے ثابت ہے۔

اعتکاف کی حکمت کا بیان

اعتکاف کی حکمت یہ ہے کہ اس کے ذریعے آدمی دنیا سے کٹ جاتا ہے، دنیا اور اھل دنیا کے ساتھ مشغولیت سے بچ جاتا ہے اور اللہ کی عبادت کے لیے فارغ ہو جاتا ہے۔ پس اعتکاف کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو بھی اللہ کی عبادت کے لیے فارغ کر دے۔

معتکف کے لیے جائز چیزوں کا بیان

1- ضرورت کی چیز کے لیے مسجد سے نکلنا جائز ہے۔ مثال کے طور پر جب کھانے اور پینے کی چیزیں لانے والا کوئی نہ ہو تو کھانے اور پینے کے لیے نکلنا جائز ہے۔ اور انسانی حاجت کہ پورا کرنے کے لیے بھی نکلنا جائز ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں " جب رسول اللہﷺ اعتکاف میں بیٹھنے کا ارادہ کرتے تو اپنے سر مبارک کو میرے قریب کر دیتے تھے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی تھی اور پھر وہ انسانی حاجت کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے " [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

2۔ معتکف کے لیے بال سنوارنا ان میں کنگھی کرنا جائز ہے جس پر دلیل پچھلی حدیث ہے۔

3۔ معتکف لوگوں سے ان کے فائدے کی باتیں کر سکتا ہے اور اسی طرح ان کے حال احوال کے بارے میں پوچھنا بھی جائز ہے البتہ وہ اس طرح کی باتوں میں کثرت سے کام نہ لے کیونکہ اعتکاف کے مقصد کے خلاف ہے۔

4۔ معتکف کے اہل و عیال اور عزیز و اقارب اس سے ملاقات کے لیے آسکتے ہیں اور معتکف کے لیے ان کو الوداع کرنے کے لیے مسجد سے نکلنا جائز ہے۔

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں " رسول اللہﷺ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے تو میں رات کے وقت ان کی زیارت اور ملاقات کے لیے آئی اور آپ ﷺ سے باتیں کیں پھر میں واپس لوٹنے کے لیے کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ بھی مجھے گھر تک پہنچانے کے لیے کھڑے ہو ئے " [اس حدیث پر امام بخاری اور امام مسلم کا اتفاق ہے]

اعتکاف کو باطل کرنے والی چیزوں کا بیان

1- بغیر کسی ضرورت کے قصداً مسجد سے نکلنا اگرچہ تھوڑی دیر ہی کے لیے کیوں نہ ہو اعتکاف کو باطل

کر دیتا ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں " رسول اللہﷺ انسانی حاجت کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے " [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

اور اس لیے بھی کہ مسجد سے نکلنا مسجد میں ٹھہراؤ اور مسجد میں رہنے کو ختم کر دیتا ہے حالانکہ مسجد میں ٹھہرنا اعتکاف کا رکن ہے تو جب رکن ختم ہو جائے گا تو اعتکاف خود بخود ختم ہو جائے گا۔

2۔ ہمبستری اعتکاف کو باطل کر دیتی ہے اگرچہ رات کے وقت

ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں فرماتے ہیں " اور عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجد میں اعتکاف میں ہو "

شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا مثال کے طور پر ہاتھ سے منی نکالنا اور بغیر فرج کے عورت کے ساتھ مباشرت کرنا بھی جماع یعنی ہم بستری کے حکم میں ہے۔

3۔ اعتکاف ختم کرنے کا پُختہ ارادہ کرنا۔

اگر مسلمان نے خاص دنوں میں اعتکاف کی نیت کی پھر اس نے اعتکاف منقطع کر دیا یعنی درمیان میں توڑ دیا تو اس کے لیے اس اعتکاف کی قضاء کرنا جائز ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں " جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو صبح کی نماز پڑھ کر مسجد میں اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جاتے اور رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھےپھر حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بھی اپنا خیمہ لگانے کا حکم دیا جولگا دیا گیا اور باقی ازواج مطہرات نے بھی اپنے اپنے خیمے لگانے کا حکم دیا جو لگا دیے گئے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھی اور خیموں کی طرف دیکھا تو ہر طرف خیمے ہی خیمے تھے پس رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا تم نیکی چاہتیں ہو [یعنی انہوں نے رسول ﷺ سے ڈر کی وجہ سے خیمے لگوائے حالانکہ اعتکاف کرنے میں مخلص نہیں تھیں] ؟ پس اپنا خیمہ گرانے کا حکم دیا جو کہ گرا دیا گیا اور رمضان المبارک میں اعتکاف چھوڑ کر شوال کے پہلے دس دنوں میں اعتکاف فرمایا یعنی رمضان والے اعتکاف کی قضا کی”اور ایک روایت میں ہے کہ “شوال کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمای " [اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے]

4۔ اعتکاف کرنے والا مریض کی عبادت نہیں کر سکتا اور نہ ہی جنازے میں شریک ہو سکتا ہے اور اعتکاف کی جگہ میں وہ اللہ کی عبادت کے لیے ساری دنیا سے منقطع ہو جاتا ہے۔