روزہ

2156

روزے کے ارکان، مباحات، مستحبات، مکروہات اور مفسدات

روزے کے ارکان

پہلا رکن: طلوع فجر سے غروب شمس تک روزہ افطار کرنے سے رکنا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اور کھاؤ اور پیو حتیٰ کہ واضح ہو جائے تمہارے لیے سفید دھاگہ کالے دھاگے سے" اور خیط البیض اور خیط ال اسود سے مراد دن کی سفیدی اور رات کی تاریکی ہے۔

دوسرا رکن: نیّت

کہ روزہ دار عبادت کی غرض سے روزے کے افطار کرنے والی چیزوں سے رکنے کی نیّت کرے کیونکہ آپﷺ نے فرما کہ "اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہ ہو جسکی اس نے نیّت کی" [متفق علیہ ہے]

رمضان میں نیّت کرنا

واجب روزے کی نیّت رات سے کرنا ضروری ہے اور اگر نفلی روزہ ہے تو اس کی نیت دن سے بھی کر سکتا ہے اگر اس نے کچھ کھایا نہ ہو۔

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ "آپﷺ ایک دن تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا کھانے کے لیے کچھ ہے تو میں نے کہا نہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ میں پھر روزے سے ہوں" [اسکو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

روزے کے مباحات

1۔ غسل کرنا، پانی میں ٹھنڈک کے لیے بیٹھنا۔

2۔ تھوک اور بلغم کو نگل جانا۔

3۔ زبان کے ساتھ کھانے کو چکھنا لیکن شرط یہ ہے کہ اندر نہ جائے۔

4۔ بو اور فضا کو معطر کرنے والی اشیاء کو سونگھنا۔

- روزے دار کے لیے مسواک کا استعمال :

مسواک کا استعمال کسی بھی وقت میں مشروع ہے چاہے وہ زوال سے پہلے ہو یا بعد میں اور مسواک خشک ہو یا تر لیکن اگرمسواک تر ہے تو اس بات کا خیال رکھا جائے کہ حلق سے کوئی حصہ نگل نہ پائے کیونکہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

روزے کے مستحبات

1۔ سحری کرنا اور سحری کو فجر کی اذان سے تھوڑا سا پہلے تک مؤخر کرنا۔

آپﷺ نے فرمایا "سحری کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے" [ متفق علیہ ہے]

چاہے وہ کم کھانے سے ہو یا زیادہ ، چاہے پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو، سحری ہو جاتی ہے۔ آپﷺ کے قول کی وجہ سے "سحری کا کھانا برکت والا ہے اس کو مت چھوڑو اگرچہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو، بے شک اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں" [ اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے]

اور مستحب یہ ہے کہ سحری دیر سے کی جائے۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ "ہم نے سولﷺ کے ساتھ سحری کی پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے " اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ " میں نے پوچھا ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا تو فرمایا پچاس آیات کی مقدار" [اس پر امام بخاری اور امام مسلم کا اتفاق ہے]

- اذان کے درمیان پانی پینا۔

اگر کوئی شخص اذان سنے اور پانی اسکے ہاتھ میں ہو تو اس کے لیے پانی پینا جائز ہو گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ "اگر تم میں سے کوئی شخص اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اس برتن کو نہ رکھے یہاں تک کہ اس سے اپنی حاجت پوری کرے" [اس کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

اس حدیث کو علماء نے صاحب شک پر محمول کیا ہے کہ اگر کسی کو صبح یعنی طلوع فجر میں شک لاحق ہو گیا اور اس نے کچھ کھا پی لیا تو کوئی حرج نہیں۔ ہاں اگر طلوع فجر کا یقین ہو گیا اور اسکے بعد کچھ کھا پی لیا تو روزہ باطل ہو جائے گا اور قضاء کرنا لازم ہو گا۔

2۔ افطاری جلدی کرنا

روزے دار کے لیے مستحب ہے کہ افطاری جلدی کرے، جب اس کو سورج کے غروب ہونیکا یقین ہو جائے، آپﷺ کے قول کی وجہ ہے "لوگ ہمیشہ بھلائی پر رہیں گے جب تک افطاری جلدی کریں گے" [اس کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

اور خشک کھجوروں سے افطاری مستحب ہے۔اگر خشک نہ ہو تو تر سے بھی کر سکتے ہیں اور طاق عدد میں ہو نی چاہیں۔ اگر کھجور میّسر نہ ہوں تو پانی کے چند گھونٹ ہی سہی۔

حدیث انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وجہ سے فرماتے ہیں کہ "نبی اکرمﷺ نماز سے پہلے خشک کھجوروں سے افطاری کرتے تھے اگر خشک نہ ہوتیں تو تر سے اگر تر بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹوں سے ہی کر لیتے تھے" [ اسکو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]

اگر اس سب میں سے کچھ بھی نہ ہو تو دل میں افطاری کی نیّت کرے یہی اس کو کافی ہے۔

جس نے غلطی سے افطار کیا۔

جب روزہ دار سورج کے غروب یا فجر کے طلوع نہ ہو نیکا گمان کرتے ہوئے کچھ کھا لے اور بعد میں اس کے گمان کے خلاف نکلے تو اس پر قضاء واجب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے "تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر گناہ نہیں ہے"

آپﷺ کا ارشاد ہے "بےشک اللہ نے میری امّت سے غلطی، نسیان اور جس پر وہ مجبور کیا جائے، کو ہٹا دیا ہے" [ أس کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے]

3-افطاری کے وقت کی دعا

کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ "آپﷺ افطار کے وقت کہتے تھے پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گی" [اس کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

اور آپﷺ نے فرمایا "بے شک روزے دار کے لیے اس کی افطاری کے وقت ایسی دعا ہے جو رد نہیں ہوتی" [أس کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے]

4-بے ہودہ اور فضول باتوں کا چھوڑنا۔

آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ "اگر کسی کا روزہ ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ فحش بات نہ کرے اور نہ ہی کسی سے لڑائی جھگڑا کرے اور اگر کوئی اس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرے یا گالی گلوچ دے تو یہ جواب میں کہے کہ میں روزے سے ہوں" [متفق علیہ ہے]

اور ایک روایت میں ہے "کہ جس شخص نے جھوٹی بات اور اس پر عمل کرنے کو نہیں چھوڑا تو اللہ کو اس کے کھانے پینے کے چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے" [ اس کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

5-کثرت سے عبادات کرنا

جیسے قرآن کی قراءت اور اللہ کا ذکر، تراویح کی نماز، رات کا قیام، لیلۃ القدر کا قیام، مؤکدہ سنتیں، صدقہ، سخاوت اور خیر کے راستے میں خرچ کرنا اور روزہ داروں کو افطار کروانا اور عمرہ کرنا، کیونکہ نیکیاں رمضان میں دوگنی ہو جاتی ہیں۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں "بے شک رسول اللہﷺ لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور جب رمضان میں حضرت جبرائیلؑ سے ملتے تھے تو اور زیادہ سخی ہو جاتے تھے اور جبرائیلؑ رمضان کی ہر رات ملتے تھے" اور قرآن کا باہمی ورد کرتے تھے، تو جبرائیلؑ کے ملنے کے وقت آپﷺ کی سخاوت چلنے والی ہواؤں سے بھی زیادہ ہو جاتی تھی"۔ [ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

6-رمضان کے آخری دس دنوں میں خوب محنت کرنی چاہیے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ "رسول اللہﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں عبادت میں خوب محنت کیا کرتے تھے، رات جاگ کر گزار تے تھے اور اپنے اہل و عیال کو بھی کثرت سے عبادت کرنے کی ترغیب دیتے تھے" [ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

ان چیزوں کا بیان جن سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے

1-کلی اور ناک میں پانی ڈالتے وقت مبالغہ کرنا

روزے کی حالت میں کلی اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ سے روزہ اس لیے مکروہ ہو جات ہے کہ اس میں اس بات کا خوف اور ڈر ہوتا ہے کہ کہیں پیٹ میں پانی نہ چلا جائے کیونکہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں "ناک میں پانی ڈالتے وقت اور اس کو صاف کرتے وقت مبالغہ سے کام لو البتہ روزے کی حالت میں نہین" [اس کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

2-شہوت کے ساتھ بوسہ لینے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔

اگر روزہ دار کو اس بات کا خوف ہو کہ بوسہ لینے سے اس کی شہوت بھڑک آٹھے گی یا س کا انزال ہو جائے گا تو اس کے لیے بوسہ لینا مکروہ ہے اور روزہ دار کو چاہیے کہ ہر وہ چیز جس کی وجہ سے شہوت میں اضافہ ہوتا ہو یا اس کی وجہ سے اس کی شہوت بھڑک اٹھتی ہو ان سے دور رہے۔

البتہ اگر اسے روزے کے فاسد ہونے یعنی انزال اور شہوت کے اضافے کا خوف نہ ہو تو پھر اس کے لیے بوسہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں "رسول اللہﷺ روزے کی حالت میں بوسہ بھی لیا کرتے تھے اور ازواج مطہرات کے ساتھ لیٹتے بھی تھے اور رسول اللہﷺ سے حاجت اور شہوت کو کنٹرول کرنے میں سب سے زیادہ طاقتور تھے" [متفق علیہ ہے]

اسی لیے نوجوانوں کے لیے بیوی کے ساتھ روزے کی حالت میں لیٹنا مکروہ ہے البتہ بوڑھے کے لیے مکروہ نہیں ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "رسول اللہﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپﷺسے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے ساتھ لیٹنے لپٹنے کے بارے میں سوال کیا تو آپﷺ نے اسے اجازت دے دی۔ پھر ایک اور آدمی آیا اس نے بھی یہی سوال کیا تو آپﷺ نے روک دیا، وہ آدمی جس کو اجازت دی تھی وہ بوڑھا تھا اور جس کو روکا تھا وہ نوجوان تھ" [ اس کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

ان چیزوں کا بیان جن سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے

1-دن کے وقت روزے کی حالت میں جان بوجھ کر کچھ کھانے اور پینے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں فرماتے ہیں "تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو"

کام کی وجہ سے روزہ توڑنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔
وہ لوگ جو ہوٹلوں میں کام کرتے ہیں یا اس جیسے اور مشکل کام کرتے ہیں ان کے لیے روزہ توڑنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح روزے کے مکلف ہیں اور کوئی چھوٹ نہیں ہے

تنبیہات ....

- جس آدمی نے روزے کی حالت میں بھول کی وجہ سے کچھ کھا پی لیا تو اسکا روزہ فاسد نہیں ہو گا بلکہ اس کا روزہ ٹھیک ہے اور اس پر لازم ہے کہ جیسے ہی اس روزہ یاد آئے وہ کھانے اور پینے سے رک جائے کیونکہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں "جس نے روزہ کی حالت میں بھول کر کچھ کھا لیا یا پی لیا تو اس سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا ، اس لیے وہ قاعدہ کے مطابق اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے" [ اس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

- ہر وہ چیز جو منہ کے ذریعے یا ناک کے ذریعے سے انسان کے پیٹ تک پہنچ جائے اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے اور اسی طرح ہر اس چیز سے بھی روزہ فاسد ہو جاتا ہے جس سے انسان کی غذائی حاجت پوری ہوتی ہو جیسے وہ انجکشن جو غذائی حاجت پوری کرنے کے لیے لگوایا جاتا ہے البتہ وہ انجکشن جو غذائی حاجت پوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ بیماری کی وجہ سے لگوایا جاتا ہے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

بطور غذا استعمال کی جانے والی دوائی کی تصویر جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
پنسلین کے انجکشن (ٹیکہ) کی تصویر جس سے روزہ نہیں ٹوٹت

- وہ چیز جو منہ کے راستے ضرورت کی وجہ سے داخل کی جائے جیسے دوربینی آلہ یا سینے کا سپرے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سینے کے سپرے کی تصویر جس سے روزہ نہیں ٹوٹت

- سُرمہ لگانا اور آنکھ اور کان میں دوائی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو اس بات پر دلالت کرے کہ ان چیزوں کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

اور اس لیے بھی کہ آنکھ عموعماً کھانے اور پینے کا ذریعہ نہیں ہے اور ناک اور کان میں دوائی اور قطرے ڈالنے کا بھی یہی حکم ہے البتہ ناک کے بارےمیں یہ ہے کہ روزے کی حالت میں دوائی یا قطرے ڈالنے سے دور رہنا بہتر ہے " کیونکہ رسول اللہﷺ نے روزے کی حالت میں ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ فرمایا ہے اور اس لیے بھی کہ ناک میں ڈالی جانے والی چیز فوراً پیٹ میں پہنچ جاتی ہے "۔[ اس کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]

سُرمہ لگانے کی تصویر جس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

- ہر وہ چیز جو منہ کے راستے سے کھائی جائے چاہے وہ انسان کو فائدہ پہنچاتی ہو یا نقصان جیسے سگریٹ نوشی وغیرہ تو ان سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ منہ کے ذریعے پیٹ میں جانے والی چیز کھانے اور پینے کے حکم میں ہےے۔

سگریٹ کی تصویر جس کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

- وہ چیزیں جن سے بچنا ناممکن ہو ان کے ذریعے سے روزہ نہیں ٹوٹتا جیسے راستے کا غبار اور روٹی کھاتے ہوئے جو روٹی کے ذرات دانتوں میں رہ جاتے ہیں وغیرہ ۔

کھانے کےذرات کی تصویر جن کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

2۔ ہم بستری کرنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے

کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "روزے کی راتوں میں یعنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا ہے" اور اس آیت میں (الرفث) سے مراد ہم بستری ہے۔

اگر کسی نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کی تو اس پر اس دن کی قضاء بھی لازم ہے اور کفارہ بھی لازم ہے، اور وہ یہ ہے کہ یا تو غلام آزاد کرے اور اگر غلام نہیں ہے تو پھر دو مہینے مسلسل روزے رکھے اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتا تو ساٹھ فقروں اور غریبوں کو کھانا کھلائے کیونکہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں " کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا میں ہلاک ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیوں کیا ہوا؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ میں نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کر لی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ غلام آزاد کر سکتے ہو؟ تو اس نے جواب میں کہا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا آپ دو مہینے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ تو اس نے پھر کہا نہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: کیا آپ 60 مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ تو اسکا جواب پھر انکار میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، پس وہ بیٹھ گیا۔ کچھ دیر کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا یہ لو اور ان کھجوروں کو لوگوں پر صدقہ کر دو۔ تو اس نے کہا اپنے سے زیادہ فقیروں پر صدقہ کروں، اس پر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے اور آپﷺ کے دانت مبارک نمودار ہوئے اور فرمایا اپنے اہل و عیال کو کھلاؤ" [متفق علیہ ہے]

- اور کفارہ اسی ترتیب پر ہو گا۔ پس کھانا وہی کھلائے گا جو روزے رکھنے پر قدرت نہ رکھتا ہو اور روزے وہی رکھے گا جو غلام آزاد نہ کر سکتا ہو اور عورت پر بھی کفارہ واجب ہو گا اگر وہ ہم بستری کرنے میں خاوند کے ساتھ راضی ہو اور اگر اس کے ساتھ زبردستی ہم بستری کی گئی تو پھر اس کا روزہ تو ٹوٹ جائیگا البتہ اس پر کفارہ واجب نہیں ہو گا۔

- اور اپنے اختیار سےمنی نکالنا بھی مناع یعنی ہم بستری کے حکم میں ہے۔ پس اگر روزہ دار نے قصداً عورت کو چھومنے، اس کو چھونے یا ہاتھ کے استعمال سے منی نکال لی تو اس کا روزہ ٹوٹ جائیگا کیونکہ یہ شہوت میں سے ہے جو کہ روزے کے منافی ہے اور اس پر اس روزہ کی قضاء واجب ہے ۔

- البتہ کفارہ واجب نہیں ہے کیونکہ صرف ہم بستری کی وجہ سے واجب ہوتا ہے اور یہی قرآن میں ہے۔

- اگر عورت کو چھونے یا سوچ و بچار کی وجہ سے منی نکل گئی تو اس کا روزہ ٹھیک ہے کیونکہ منی کے نکلنے کی وجہ سے روزہ کے فاسد ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

- اگر روزہ دار کو نیند میں احتلام ہو گیا یا بیماری کی وجہ سے بغیر شہوت کے منی نکل گئی تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوگا کیونکہ اس میں اس کا کوئی اختیار شامل نہیں ہے۔

اگر اس نے صبح کی نماز سے پہلے بیوی سے ہم بستری کر ڈالی یا اس کو احتلام ہو گیا تو اس کا روزہ ٹھیک ہے اور اسے چاہیے کہ وہ صبح کی نماز پانے کے لیے غسل کر لے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں " کہ رسول اللہ ﷺ پر صبح ہو جاتی تھی اس حال میں کہ آپﷺ حالت جنابت میں ہوتے تھے، پھر آپ ﷺ غسل فرماتے اور روزہ رکھ لیتے تھے "

3- جان بوجھ کر قے کرنا

قصداً قے کا مطلب ہے جو کچھ معدہ میں ہے اس کو جان بوجھ کر (قصداً) منہ کے ذریعے باہر نکالنا۔ اگر کسی روزہ دار پر قے کا غلبہ آگیا اور بغیر اختیار کے نگل گیا تو اس کا روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں " جس کسی کو بے اختیار قے آ گئی تو اس پر قضاء نہیں ہے اور جس نے جان بوجھ کر قے کی اس پر قضاء واجب ہے "

4-حیض اور نفاس کاخون نکلنے سے بھی روزہ باطل ہو جاتا ہے یعنی ٹوٹ جاتا ہے۔نا

جب بھی عورت کو حیض یا نفاس کےخون آجائے (اگرچہ وہ سورج کے غروب ہونے کے بالکل ہی قریب کیوں نہ ہو) تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس پر اس روزے کی قضاء واجب ہے۔

فائدہ

پچھنے لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور پچھنے لگوانے کا مطلب ہے خاص آلہ سے خون نکالنا کیونکہ رسول اللہﷺ نے پچھنا لگوایا اس حال میں کہ وہ روزہ دار تھے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے " ہیں کہ رسول اللہﷺ نے روزہ دار کو پچھنا لگوانے اور بوسہ لینے کی اجازت دی تھی البتہ اگر کمزوری ہو تو پھر پچھنا لگوانا مکروہ ہے "۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ «رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کیا آپﷺ روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانا مکروہ سمجھتے ہو تو آپﷺ نے فرمایا نہیں البتہ اگر روزہ دار کمزور ہو تو پھر پچھنا لگوانا مکروہ ہے»

زخم کی وجہ سے خون کے نکلنے سے یا داڑ کے نکالنے کی وجہ سے یا ناک سے خون کے نکلنے کی وجہ سے یا خون دینے کی وجہ سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔