روزہ

2068

نفلی روزے

نفلی روزں کی تعریف

نفلی روزے

وہ تمام روزے جو انسان پر فرض نہیں ہوتے لیکن وہ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے رکھتا ہے ان کو نفلی روزے کہتے ہیں۔

نفلی روزوں کا بہت زیادہ اجروثواب ہے۔ حدیث قدسی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا "کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان کا ہر نیک کام دس گُنا سے سات گُنا تک بڑھا دیا جاتا ہے البتہ روزہ اس میں شامل نہیں کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔" [اس پر امام بخاری اور امام مسلم کا اتفاق ہے]

وہ دن جن کے روزے رکھنا سنت ہے۔

1- شوال کے مہینے کے چھ روزے

رسول اللہﷺ فرماتے ہیں "جن نے رمضان کے روزے رکھےاور پھر شوال کے مہینے کے چھ روزے رکھے گویا کہ اس نے پوری زندگی روزے رکھے " [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

چاہے وہ شوال کے مہینے کے روزے پے در پے یا ایک ایک کر کے رکھے لیکن چھ روزے پورے کرے۔

2- ذوالحجہ کے پہلے نو دن کے روزے۔

رسول اللہﷺ فرماتے ہیں " ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو نیک کام اتنے محبوب ہیں کہ باقی دنوں میں نیک کام چاہے وہ جو بھی ہوں ان کی ہمسرے بالکل نہیں کر سکتے" صحابہ کرام نے پوچھا اے اللہ کے رسول اللہﷺ اللہ کے راستے میں جہاد بھی ان دنوں کے نیک اعمال کے برابر نہیں ہو سکتا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اللہ کے راستے میں جہاد بھی ان دنوں کے نیک اعمال کے برابر نہیں ہو سکتا البتہ اس آدمی کا عمل اور جہاد ان دنوں کے نیک اعمال کے برابر ہے جو اپنی جان و مال کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے اور ان دونوں کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا ہے "[اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت جیسے ذکر، تسبیح و تہلیل، قرآن پاک کی تلاوت، صدقہ و خیرات اور عید کے دن کے علاوہ روزے رکھنا سنت ہے اور ان دنوں میں عرفات کے دن کے روزے کی حاجیوں کو علاوہ باقی مسلمانوں کے لیےخاص حیثیّت ہے اور عرفات کا دن ذوالحجہ کا نواں دن ہوتا ہے۔

رسول اللہﷺ فرماتے ہیں "عرفات کے دن کے روزرے کاثواب اللہ پر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ روزہ گذرے ہوئے سال اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے" [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

3- عاشوراءکے روزے

عاشوراء

عاشوراء محرم کے دسویں دن کو کہتے ہیں۔

رسول اللہﷺ فرماتے ہیں "عاشوراء کے روزے کا ثواب اور جزاء اللہ پر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ گزرے ہوئے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے "[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

اور اس دن روزہ رکھنے کا سبب وہ ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے، فرماتے ہیں "جب رسول اللہﷺ مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ نے عاشوراء کے دن یہود کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا، پس فرمایا یہ کیا ہے؟ یہودیوں نے جواب دیا یہ ایک بہترین دن ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمنوں سے نجات دی۔ تو موسیٰؑ نے اس کے شکرانے میں روزہ رکھا۔ رسول اللہﷺنے فرمایا میں آپ سے زیادہ موسیٰ کا حقدار ہوں اور ان کا حقیقی وارث ہوں۔ پس رسول اللہﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور روزہ رکھنے کا حکم بھی دی"[اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

اور اسی طرح محرّم کے نویں دن کا روزہ بھی مستحب ہے کیونکہ امام مسلم کی روایت میں ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا "اگر میں اگلے سال زندہ رہا تو نویں دن کا روزہ بھی رکھوں گ"[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

4۔ ہر مہینے میں بیض کے دن۔

بیض کے دن

ہر مہینے کے تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں دن کو بیض کے دن کہتے ہیں اور ان کو بیض اس لیے کہا جاتا ہے کہ چاند کی روشنی کی وجہ سے ان کی راتیں سفید ہوتی ہیں۔

عبدالملک بن منھال اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ ہوتے تھے، پس وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ان کو بیض کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے" یہ سارے زمانے کے روزے ہیں"[اس حدیث کو ابن حبان نے روایت کیا ہے]

5- ہر ہفتے میں پیر اور جمعرات کے روزے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا " پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، پس میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں پیش کیے جائیں "[اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]

6- ایک دن چھوڑ کر دوسرے دن کا روزہ

سب سے بہتر حضرت ابوداؤدؑ کے روزے ہیں۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ کو نفلی روزوں میں سب سے زیادہ حضرت داؤدؑ کے روزے پسند ہیں۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے "[اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]

7- محرّم کے مہینے کے روزے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "سب سے بہتر روزے رمضان کے بعد محرّم کے روزے ہیں" [ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

8- شعبان کے روزے

رسول اللہﷺ شعبان میں اتنے روزے رکھتے تھے کہ کسی اور مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے تھے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے کہا " اےاللہ کے رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں اتنے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھتا ۔ رسول اللہ ﷺ نےجواب دیا یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ رجب اور رمضان کے درمیان ہونے کی وجہ سے غافل ہیں اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اور مجھے یہ پسند ہے کہ جب میرے اعمال اٹھائے جائیں تو میں روزے کی حالت میں ہوں " [اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]

اور رسول اللہﷺ کی حدیث میں جو شعبان کے روزے نہ رکھنے کا حکم آیا ہے جیسا کہ فرماتے ہیں "جب شعبان نصف کو پہنچ جائے تو تم روزے نہ رکھو یہاں تک کہ رمضان آ جائے" [اس حدیث کو ابن حزیمہ نے روایت کیا ہے]

تو یہ حکم یا تو اس لیے ہے کہ بعض لوگ شعبان کے آخری پندرہ دنوں کو روزوں کے ساتھ خاص کر دیتے ہیںَ اور صرف آخری پندرہ دنوں میں روزے رکھتے ہیں اور شروع میں نہیں رکھتے تو ان کو روکا گیا ہے۔ یا پھر یہ حکم اس لیے آیا ہے کہ شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں سے نہ ملایا جائے۔

البتہ جو آدمی آخری پندرہ دنوں کو روزوں کے ساتھ خاص نہیں کرتا اور شعبان کے روزے رمضان کے روزوں کے ساتھ ملاتا بھی نہیں تو اس کے لیے شعبان کے روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔

وہ دن جن کے روزے رکھنا حرام ہیں اور وہ دن جن کے روزے رکھنا مکروہ ہیں۔

پہلے : ان دنوں کا بیان جن کے روزے رکھنا حرام ہیں۔

1۔ دونوں عیدوں کے دونوں دنوں کا روزہ رکھنا حرام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے " کہ رسول اللہﷺ نے عید الاضحیٰ اور عید الفطرکے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا "۔ [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

2۔ عیدالاضحیٰ کے بعد تین دن، جنہیں ایّام تشریق کہتے ہیں،کے روزے رکھنا حرام ہیں۔رسول اللہﷺ فرماتے ہیں " تشریق کے دن کھانے اور پینے کے دن ہیں" [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

البتہ حاجی اگر حج تمتع یا حج قرآن کرنے والا ہو تو قربانی نہ ملنے کی وجہ سے اس کے لیے ان دنوں میں روزے رکھنا جائز ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " پس جب تم امن کی حالت میں ہو جاؤ تو جو شخص عمرے سے لے کرحج تک تمتع کرے۔ پس اسے جو قربانی میسّر ہواسے کر ڈالے، جسے طاقت ہی نہ ہو تو تین روزے تو حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات واپسی میں، یہ پورے دس ہو گئے "

3۔ شک والے دن کا روزہ رکھنا حرام ہے اور وہ شعبان کا تیسواں دن ہے جب رات کو بادل اور گردوغبار کی وجہ سے چاند کا نظر آنا ممکن نہ ہو اور پتہ نہ چلے کہ رمضان کا چاند نظر آگیا یا نہیں۔

حضرت عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "جس نے شک والے دن روزہ رکھا تو اس نے ابوالقاسم یعنی رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی" [اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور حسن صحیح کا حکم لگایا ہے]

دوسرا: وہ دن جن کےروزے رکھنا مکروہ ہیں۔

1۔ صرف رجب کے مہینے کے روزے رکھنا مکروہ ہیں کیونکہ زمانہ جاہلیّت میں اس مہینے کی تعظیم کی جاتی تھی تو اگر صرف اسی مہینے کے روزے رکھے جائیں تو اس میں ان کی روایت اور رواج کو زندہ کرنا ہے۔

2۔ صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا " کوئی بھی جمہ کے دن روزہ نہ رکھے البتہ وہ آدمی رکھ سکتا ہے جس نے ایک دن اس سے پہلے روزہ رکھا ہو یا ایک دن بعد روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو " [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

اور اس آدمی کے لیے بھی جمعہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ نہیں جس کی جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی عادت ہو۔

3۔ پے در پے روزے رکھنا مکروہ ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ نے پے در پے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے پے در پے روزے رکھنے سے منع فرمایا۔

صحابہ کرام نے پوچھا «آپﷺ توپے در پے رکھتے ہو» رسول اللہﷺ نے جواب دیا "میں آپ جیسا نہیں ہوں مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے" [اس پر امام مسلم اور امام بخاری متفق ہیں]

طب کی نظر میں روزوں کی حیثیّت
روزے جلد کی بیماریوں کے علاج میں بہت مفید ثابت ہوتےہیں اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کی وجہ سے خون میں پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جلد میں بھی کم ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جلد میں مختلف قسم کی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی قوّت پیدا ہو جاتی ہے اور اسی طرح روزے معدے کے جراثیمی بیماریوں کے علاج میں بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔

توجیہات/تاویلات

1۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ شریعت کے اصولوں کے مطابق عبادت کرے اور کسی ایسے دن روزہ نہ رکھے جس دن شریعت میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہو اور نہ ہی وہ کسی دن کو روزہ کے ساتھ خاص کرے جیسا کہ بعض لوگ رجب کے ستائیسویں کو روزہ کے ساتھ خاص کرتے ہیں اور بعض لوگ صرف شعبان کے آخری پندرہ دنون میں روزے

رکھتے ہیں تو یہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور رسول اللہ ﷺ بھی فرماتے ہیں " جس کسی نے ہمارے دین میں کسی نئی چیز کو ایجاد کیا تو وہ مردود ہے" [ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

2۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ کفارہ کی روایات اور شعائر کی تعظیم سے اپنےآپ کو بچائے اور جن دنوں کی وہ تعظیم کرتے ہیں ان کو عبادت کے ساتھ خاص نہ کرے