زکوٰۃ

2028

زمین سے نکلی ہوئی چیزوں پر زکوٰۃ

زمین سے نکلی ہوئی چیز کی تعریف

زمین سے نکلی ہوئی چیزیں

ہر وہ چیز جو زمین سے نکلے اور اس سے فائدہ اٹھانا ممکن ہو تو اس پہ زکوٰۃ واجب ہے۔

زمین سے نکلنے والی چیزیں دو قسم کی ہیں: دانے اور پھل، معدنیات اور خزانے .

پہلا: دانے اور پھل

دانوں اور پھلوں کی تعریف

دانے

دانوں سے مراد ہر وہ دانہ ہے جو ذخیرہ کیا گیا ہو جیسے جو اور گندم کے دانے اور ان دونوں کے علاوہ اور دانے وغیرہ۔

پھل

ہر وہ پھل جو ذخیرہ کیا گیا ہو جیسے کھجور، خشک انگور یعنی کشمش اور بادام وغیرہ۔

پھل پھلوں اور دانوں کی زکوٰۃ کا حکم۔

پھلوں اور دانوں پر زکوٰۃ واجب ہے کیونکہ اللہ فرماتے ہیں " اور جب یہ مختلف درخت پھل دار ہو جائیں تو پھلوں کے کاٹتے ہی اس میں سے زکوٰۃ ادا کرو "

اور رسولؐ اللہ فرماتے ہیں " اس زمین میں عشر ہے جسکو بارش، چشمے اور نہروں کا پانی سیراب کرے اور بیسواں حصّہ یعنی آدھا عشر ہے اس زمین میں جسکو حوض کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو "[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

دانوں اور پھلوں میں زکوٰۃ واجب ہو نے کی شرائط

1۔ ان کو محفوظ اور ذخیرہ کی

گیا ہو اگر اسکو ذخیرہ نہ کیا گیا ہو بلکہ روز مرّہ کی استعمال کے لیے ہو تو اس میں زکوٰۃ نہیں ہے کیونکہ اسکی مالیّت پوری نہیں ہوتی اس لیے کہ اس سے مالی فائدہ حاصل نہیں کیا جا تا ۔

2۔ یہ چیزیں مکیلی ہوں اور وہ یہ کہ وسق کے ذریعے انکی مقدار معلوم کی گئی ہو۔

یعنی ان پر مطلقاً زکوٰۃ واجب نہیں بلکہ ایک مقدار تک پہنچنے کے بعد ان پر زکوٰۃ ہے کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں " دانوں اور کھجوروں میں اس وقت تک صدقہ نہیں ہے جب تک انکی مقدارپانچ وسق تک نہ پہنچ جائے "[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

ور اگر وہ مکیلات میں سے نہ ہوں جیسے سبزیاں، تو ان پہ زکوٰۃ نہیں ہے۔

3۔ آدمی کے زمین میں اگانے سے اُگی ہوں۔

خودبخود اگنے والی چیزوں پہ زکوٰۃ نہیں ہوتی۔

4۔ انکی مقدار نصاب کو پہنچ گئی ہو اور وہ نصاب کی مقدار پانچ وسق ہے۔

رسولؐ اللہ کے " قول کی وجہ سے دانوں اور کھجوروں میں اس وقت صدقہ نہیں ہے جب تک ان کی مقدار پانچ وسق تک نہ پہنچ جائے۔ "[اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے] پس نصاب 300 نبوی صاع

ہوگا اور یہ بہترین گندم کے 612 کجم کے برابر ہے۔ نصاب پورا کرنے کے لیے ایک جنس سے تعلق رکھنے والی چیزوں کو ملا لیا جائے گا۔

مثال کے طور پر نصاب پورا کرنے کے لیے کھجوروں کی مختلف اقسام کو ملا لیا جائے گا لیکن مختلف اجناس سے تعلق رکھنے والی چیزوں کو آپس میں نہیں ملایا جائے گا۔

مثال کے طور پر گندم کو جو کے ساتھ اور گندم کو کھجور کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔

دانوں اور پھلوں پر زکوٰۃ واجب ہونے کا وقت۔

جب دانے سخت ہو جائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ اور پھل جب کھانے کے قابل ہو جائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ اور جس کسی نے پھل اور دانے زکوٰۃ واجب ہونیکے بعد بیچ دیے تو زکوٰۃ بیچنے والے پر واجب ہے کیونکہ زکوٰۃ کے وجوب کے وقت وہ ہی مالک تھا۔

دانوں اور پھلوں پر واجب زکوٰۃ کی مقدار

1۔ ان زمینوں سے نکلنے والی چیزوں میں عشر ہے جو بغیر تکلیف اور محنت کے سیراب ہوتی ہوں جیسے بارشوں اور چشموں سے سیراب ہونے والی زمینیں۔

2۔ ان زمینوں میں نصف عشر یعنی بیسواں ہے جو محنت اور مشقّت سے سیراب ہوتی ہوں جیسے کنوؤں اور حوضوں سے سیراب ہونیوالی زمینیں۔

3۔ وہ زمینیں جو دونوں سے سیراب ہوتی ہوں یعنی کبھی بارش اور چشمے سے سیراب ہوتی ہوں اور کبھی حوضوں اور کنوؤں سے ہوتی ہوں،ان میں تین ربع عشر ہے یعنی (7.5%) عشر ہے۔

اس پر دلیل رسولؐ اللہ کا وہ قول ہے جس میں فرماتے ہیں " جس زمین کو بارش، نہروں اور چشموں سے سیراب کیا جاتا ہو اس میں عشر ہے اور جس کو اونٹ کے ذریعےپانی نکال کر سیراب کیا جاتا ہو، اس میں نصف عشر ہے "[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

دانوں اور پھلوں کا ضائع ہونا۔
اگر دانے اور پھل خودبخودضائع ہو گئے تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہے۔اور اگر زکوٰۃ واجب ہونے کے بعد قصدا اور تجاوزا انکو ضائع کی گیا ہو تو زکوٰۃ ساقط نہیں ہو گی بلکہ اسکا ادا کرنا واجب ہوگا۔
شھد میں زکوٰۃ
ابن عبد البر رحمه الله جمہور سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " شھد میں زکوٰۃ نہیں ہے اور یہ ٹھیک بات بھی ہے کیونکہ شھد پہ زکوٰۃ کے وجوب پر نہ قرآن میں کوئی دلیل ہے اور نہ ہی سنّت رسولؐ میں اور اصل ہر چیز میں زکوٰہ کا واجب نہ ہونا ہے جب تک کہ زکوٰۃ کے وجوب پر دلیل قائم نہ ہو جائے "

دوسرا: معدنیات اور خزانے ہیں

معدنیات اور خزانوں کی تعریف۔

معدنیات

معدنیات ان چیزوں کو کہتے ہیں جو زمین کی جنس میں سے نہیں ہوتیں اور زمین سے نکلتی ہیں۔ جیسے سونا، چاندی،لوہا،جواھرات اور وہ خام مال جو زمین سے نکلتا

خزانے

خزانہ اس مال کو کہتے ہیں جسکو انسان اپنے ہاتھ سے زمین میں دفن کر دیتا ہے جیسے سونا چاندی وغیرہ

معدنیات اور خزانوں کی زکوٰۃ کا حکم۔

معدنیات اور خزانوں پہ زکوٰۃ واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " اے ایمان والو ان پاک اموال میں سے جو تم کھاتے ہو اور جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے "

اور رسولؐ اللہ فرماتے ہیں " اور خزانوں میں خمس یعنی پانچواں حصہ نکالا کرو "[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

خزانہ کی زکوٰۃ کی شرائط

خزانہ کی زکوٰۃ میں کوئی شرط نہیں ہے۔ جب انسان اسکا مالک بن جائے تو اسے چاہیے کہ وہ زکوٰۃ ادا کرے۔

معدنیات اور خزانوں میں واجب زکوٰۃ کی مقدار

معدنیات اور خزانے چاہےتھوڑے ہون یا زیادہ انکا پانچواں حصّہ زکوٰۃ میں دینا واجب ہے کیونکہ رسولؐ اللہ کے قول میں ہے کہ آپؐ فرماتے ہیں " خزانے میں خمس ہے " [ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

خام سونے کی تصویر
خام چاندی کی تصویر
خام پیتل کی تصویر
خام لوہے کی تصویر