زکوٰۃ

1697

زکوٰۃ کی دوسری اقسام

قرض کی زکوٰۃ

قرض

قرض خواہ پرجس مال کا دینا لازم ہوتا ہے اسکو قرض کہتے ہیں

دوسرے لوگوں کو جو مال بطور قرض دیا گیا ہوتا ہے انکی زکوٰۃ کا حکم

وہ آدمی جس پر اتنا قرض ہو جو نصاب کے برابر ہو یا اتنا ہو کہ کل مال میں سے اگر اسکو نکال دیا جائے تو نصاب پورا نہ ہوتا ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ اور اگر اتنا قرض ہے کہ اس کے کل مال میں سے نکالنے سے نصاب برقرار رہتا ہو تو اس کو نکال کر بقیہ مال پر زکوٰۃ دے دے۔

مثال کے طور اگر کسی آدمی کے پاس 10000 ڈالرز ہیں اور وہ 10000 ڈالرز کا مقروض بھی ہے تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ کیونکہ قرض نکالنے سے اسکے پاس کچھ بھی نہیں بچتا۔ اور اسی طرح اگر اس پر 9950 ڈالرز قرض ہیں تو ان ڈالرز کے نکالنے سے نصاب باقی نہیں رہتا۔ اس لیے اس صورت میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔

اول: اموال زکوٰۃ میں سے تمام تجارتی قرضوں کو منہا کیا جائے گا بشرطیکہ مقروض کے پاس اسکی بنیادی ضروریات سے زائد سامان موجود نہ ہو۔

دوسرا: انوسٹ شدہ قرضوں کو بھی اموال زکوٰۃ میں سے منہا کیا جائے گا (نکالا جائیگا) بشرطیکہ مقروض کے پاس اس بنیادی ضروریات زندگی سے زائد سامان موجود نہ ہو جس کی قیمت ان قرضوں کے برابر پہنچتی ہو۔

ایسی صورتحال میں کہ جب ان قرضوں کی ادائیگی کی مدّت مؤخر ہو تو اموال زکوٰۃ میں سے سالانہ قسط جس کی ادائیگی ابھی ضروری ہے، نکال کر باقی سامان کی زکوٰۃ ادا کی جائیگی۔

اموال زکوٰۃ کے علاوہ باقی سامان کی قدروقیمت انوسٹمنٹ شدہ قرضوں کے برابر ہو تو پھر ان قرضوں کو اموال زکوٰۃ میں سے نہیں نکالا جائیگا۔ اور اگر زائد از ضرورت سامان کی قیمت قرضوں سے کم ہے تو اموال زکوٰۃ میں سے یہ نکال دیے جائیں گے۔ اور زکوٰۃ نکالتے ہوئے انکا اعتبار نہیں ہو گا۔

تیسرا: گھر وغیرہ بنانے کے لیے، لیے گئے قرضے جن کی ادائیگی عموما چھوٹی چھوٹی (لمبی) قسطوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ اگر قرض خواہ کے پاس سالانہ قسط کی ادائیگی کے بعد اتنا مال رہ جاتا ہے جو نصاب زکوٰۃ یا اس سے زائد ہو تو وہ اس میں سے زکوٰۃ ادا کرے گا۔

قرض کی زکوٰۃ کا حکم جو دوسروں کے ذمہ زکوٰۃ دینے والے کے واجب ہیں۔

اگر قرض کی نوعیّت کچھ ایسی ہے جس کی ادائیگی بظاہر ناممکن نظر آرہی ہے جیسے کسی مفلس فقیر کے ذمہ قرض ہے یا کسی مالدار شخص کے ذمہ ہے

مگروہ مسلسل ٹال مٹول کر رہا ہے یا ایسے شخص کے ذمہ ہے جو سرے سے ہی قرض دینے سے انکار کر رہا ہے کہ اس صورت حال میں اس مال کی زکوٰۃ واجب نہیں ہو گی۔ بلکہ جب کبھی یہ مال مل جائے گا تو ایک سال کی زکوٰۃ ادا کی جائیگی۔

سرٹیفکیٹس کی زکوٰۃ

سرٹیفکیٹ

شہادۃ کا مطلب یہ ہے کہ اس سرٹیفکیٹ کے اجراء کے بعد متعلقہ اتھارٹی کے ذمہ اس رقم کی ادائیگی ضروری ہو جاتی ہے جو اس میں مذکور ہے بشرطیکہ ہر سرٹیفکیٹ ہولڈر اسکا مستحق ہو اور اس کے ساتھ ساتھ بل میں مذکورہ قیمت اسمیہ یعنی کسی خاص فائدہ پر باہم طرفین میں اتفاق ہوا ہے، اسکی ادائیگی بھی اتھارٹی کے ذمہ لازم ہو گی۔

مذکورہ بالا صورت میں اتھارٹی کی طرف سے دی جانے والی رقم سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

کیونکہ اس رقم کی حیثیّت کسی باہمی طے شدہ فائدہ کے عوض قرض جیسی ہے تو اس طرح کے سرٹیفکیٹس کا اجراء اور ان کے ذریعے طے پانے والے معاملات عمومی طور پر جائز نہیں ہوتے کیونکہ ان کی حیثیّت کسی فائدے کے عوض قرض جیسی ہوتی ہے چنانچہ جو بھی اس طرح کے معاملات کرتا ہے اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ یہ معاملات چھوڑکر اللہ کی طرف رجوع کرے اور توبہ و استغفار کرے۔

بلوں/سرٹیفکیٹس کی زکوٰۃ کا حکم اور اسکی مقدار

سندات (بلز) یہ دین مؤجل کے حکم میں ہیں۔ متعلقہ اتھارٹی کے ذمہ چنانچہ ان سندات کی زکوٰۃ کا حکم وہی ہو گا جو قرض کی زکوٰۃ کا حکم ہے، اگر سندات کی قیمت کی مقدار نصاب زکوٰۃ کو پہنچ جائے تو ان میں (مذکورہ سال کی قیمت پر) زکوٰۃ واجب ہو گی۔

یا پھر اگر سرٹیفکیٹ ہولڈر کے پاس اسکی ملکیت میں پیسے ہیں یا سامان تجارت ہے اور اس پر ایک سال پھر گذر جائے تو اب تمام مجموعی املاک (نقدی/مالی تجارت) اور سرٹیفکیٹ میں مذکورہ رقم ملا کر اگر نصاب کو پہنچ جائے تو سارے مال کی مجموعی قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ دی جائے گی۔

اور اگر سندات میں تصرف ناممکن ہو تو پھر بھی ان پر سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہو گی بلکہ ان کی تبدیلی کے وقت تمام گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ نکالی جائے گی۔

سروس (ملازمت) ختم ہونیکے موقع پرحکومت کی جانب سے دی جانیوالی رقم (مکافاۃ)

ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم (پنشن) خدمت کا ختم ہونا

دوراں سروس کاٹی گئی رقم، سروس ختم ہونیکے موقع پر جس کا ملازم مستحق ہوتا ہے بشرطیکہ اس میں متعلقہ قوانین کے مطابق وہ تمام شرائط جن کا ہونا ضروری ہےموجودہ ہوں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی رقم

ملازمت کے دوران ہر ملازم کی تنخواہ سے جو پیسے کٹتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت یا این-جی-او اور پرائیویٹ ادارےاسکو وہ رقم ایک ہی دفع دیتی ہے اس رقم کے ایک دفعہ ملنے کو مکافاۃ التقاعد کہتے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی تنخواہ

الراتب التقاعد اس تنخواہ کو کہتے ہیں جو ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت یا خاص ادارے سے وصول کرتا ہے اور اس آدمی میں اس کے مستحق ہونیکی تمام شرائط بھی پائی جاتی ہوں۔

ان تنخواہوں میں زکوٰۃ کا حکم

ملازمت کےدوران کسی بھی ملازم یا کام کرنے والے پر ان استحقاقات میں سے کسی ایک کی وجہ سے بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان پر مکمل ملکیت نہیں رکھتا۔ اسی لیے وہ ان میں کسی قسم کا تصرف نہیں کر سکتا۔

یہ حکم ملنے کے بعد کہ یہ اسحقاقات ملازم یا کام کرنے والے کو ایک ہی دفعہ یا پے در پے دے دیے دی جائیں تو جب وہ ان کو تسلیم کر لے گا تو تسلیم کی وجہ سے ملکیت تام ہو جائیگی۔

اس لیے اسکو زکوٰۃ دینی ہو گی اور زکوٰۃ کی پہلی کانفرنس میں یہ بات طے ہو گئی ہے کہ ملازم اس حاصل شدہ مال کو اپنے پاس موجودہ مال کے ساتھ جمع کرے گا اگر نصاب پورا ہو گیا اور اس پر سال بھی گذر گیا تو اس پر زکوٰۃ دینی لازم ہے۔ [قضايا فقہیہ معاصرة د/ صلاح الصاوي ،ص58]

مستغلات کی زکوٰۃ

مستغلات

مستغلات ان چیزوں کو کہتے ہیں جن کو تجارت کیلئے نہیں بلکہ کرایہ پر استعمال کیلئے بنایا گیا ہو مثال کے طور پر کرایہ پر دی جانے والی زمین، گاڑیاں اور کارخانے، فیکٹریاں وغیرہ

تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان چیزوں میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے البتہ ان سے حاصل ہونے والی رقم کو مالک کے پاس موجودہ دوسری رقم کے ساتھ ملایا جائے گا اگر نصاب پورا ہوتا ہے اور سال بھی گزر گیا ہو تو اسے زکوۃ دینا ہو گی اور چونکہ نقدی ہے اس لیے اسے نقدی کی زکوۃ دینا ہو گی۔ [قضايا فقہیہ معاصرة د/ صلاح الصاوي ،ص58]

کرایہ دار جو رقم ضمانت میں دیتا ہے اسکی زکوٰۃ

تأمين

تأمين ان اموال کو کہتے ہیں جو کرایہ دار، کرایہ پر چیزدینے والے کو اعتماد کیلئے پہلے سے ہی دے دیتا ہے۔

کرایہ دار پر ان اموال کی کوئی زکوٰۃ واجب نہیں ہے کیونکہ یہ اموال اسکی ملکیت میں نہیں ہے اور زکوٰۃ کے وجوب کے لیے مکمل ملکیّت شرط ہے۔

حقوق معنویہ کی زکوٰۃ

الحقوق المعنویۃ

حقوق معنویہ کسی انسان کے غیر مادی چیز پر تسلط کو کہتے ہیں چاہے اسکا تعلق اسکے ذہن کی پیداوار سے ہو جیسے مصنف کا حق اسکی لکھی ہوئی علمی اور ادبی کتابوں، یا سائنس دان کا حق اس کی نئی ایجاد کردہ چیز پر یا پھر اسکا تعلق انسان کے اعضاء سے ہوتا ہے جیساکہ آدمی جب چست اور ہوشیار ہو تو تجارت کیلئے ایسے کام کرنے والے آدمی ڈھونڈتا ہے جس سے اسکی تجارت چمک جاتی ہے

اور اس طرح بہتر تجارتی نام کی وجہ سے بھی تجارت میں اضافہ ہوتا اور تجارتی نشانی﴿مونو گرام﴾ بھی چیز کو بااعتماد بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان تمام چیزوں پر انسان کے حق کو حقوق معنویۃ کہتے ہیں۔

حقوق معنویہ کی زکوۃ کا حکم

عرف عام میں حقوق معنویہ مال کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ان حقوق کا مالک شرعی قوانین کے مطابق ان میں تصرف بھی کر سکتا ہے اور یہ چیزیں اسکے حق میں محفوظ بھی ہوئی ہیں۔

کتاب لکھنے یا نئی چیز کی ایجاد میں ذاتی طورپر زکوۃ نہیں ہے البتہ ان سے حاصل ہونے والے فائدے اور منافع میں زکوۃ ہے۔ [قضايا فقہیہ معاصرة د/ صلاح الصاوي ،ص60]

تنخواہ کی زکوۃ

الاجور والرواتب

اجور اور رواتب اس چیز کو کہتے ہیں جو کام کرنے والا مال میں سے اپنے کام اور محنت کے عوض طلب کرتا ہے۔

رواتب واجور میں زکوٰۃ کا حکم

ان اموال کو وصول کرتے ہی ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ البتہ جو وہ وصول کرے گا اسکو اپنے پاس موجود بقیہ مال کے ساتھ ملائے گا اگر نصاب پورا ہوتا ہے اور سال بھی گزر گیا ہو تو پھر وہ زکوٰۃ دے گااور جو درمیان سال میں وصول کرتا رہا ہے اسکی زکوٰۃ بھی آخر سال میں بقیہ اموال کے ساتھ نکالے گا اگرچہ ان پر سال نہیں گزرا لیکن وہ چونکہ فی الجملہ نصاب کا مالک ہے تو اس لیے وہ زکوٰۃ دے گا۔ اور زکوٰۃ کی مقدار نقود والی ہو گی یعنی ہر 200 میں2.5% کے حساب سے زکوٰۃ دے گا۔

حرام مال کی زکوۃ

المال الحرام

حرام مال اس مال کو کہتے ہیں جس کو حاصل کرنے سے اور اس سے فائدہ اٹھانے سے شریعت نے روکا ہو چاہے اس کے اندر حرمت ضرر اور خبث کی وجہ سے ہو جیسے مردار کا گوشت اور شراب یا حرمت کسی اور چیز کی وجہ سے ہو، اس کے کمانے اور حاصل کرنے کا طریقہ غلط ہو جیسے کسی کا مال بغیر اجازت کے اٹھانا یا کسی کا مال غصب کرنا یا کسی کا مال اس طریقے سے حاصل کرنا جس کو شریعت نے حرام قرار دیا ہو اگرچہ مال کا مالک ہو جیسے سود یا رشوت کے ذریعے کسی کا مال لینا اگرچہ سود یا رشوت دینے والا راضی ہو۔

حرام مال کی زکوۃ کا حکم

وہ مال جو اپنی ذات کی وجہ سے حرام ہو وہ زکوۃ کا محل نہیں ہےیعنی اسکی زکوۃ دینی جائز نہیں ہے کیونکہ وہ شریعت کی نظر میں مال ہی نہیں ہے اور شریعت کے مقرر کردہ طریقہ کے مطابق اس سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے۔

وہ مال جو ذاتا گو جائز ہو لیکن اسکو حرام طریقے سے حاصل کیا گیا ہو تو جس نے اس مال کو حرام طریقے سے حاصل کیا ہے اس پر اسکی زکوۃ نہیں ہے۔

کیونکہ اسکی ملکیت اس مال پر کامل نہیں ہے اور زکوٰۃ کے وجوب کیلئے کامل ملکیت شرط ہے۔ ہاں اگر یہ اپنے اصل مالک کی طرف واپس لوٹا دیا جاتا ہے تو اس پر ایک سال کی زکوۃ نکالنا واجب ہے۔ اگرچہ وہ کئی سال حرام طریقے سے کمانے والے کے پاس رہا ہو۔

اگر حرام مال کو اپنے پاس روکنے والے نے مال اسکے اصل مالک کو واپس نہ کیا بلکہ اس میں سے زکوۃ نکال لی تو یہ زکوۃ شمار نہیں ہو گی بلکہ اسکو اصل مال میں سے نفی کرینگے اور جو باقی رہ جاءے گا اسکا وہ بدستور گناہ گار رہے گا۔

اور وہ اس وقت تک بری الذمہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ تمام مال اس کے اصل مالک کو اگر اسے جانتا ہو واپس نہ کر دے اور نہ جاننے کی صورت میں اسے یہ سارا مال صدقہ کرنا پڑے گا اور صدقہ کیےبغیر بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔

(تاویلات) حرام مال میں تصرف کرنے کا طریقہ

1- وہ آدمی جس نے حرام طریقے سے مال حاصل کیا اور اس کو اپنے پاس روکے رکھا تو ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود وہ اسکا مالک نہیں بن سکتا اور اس پر لازم ہے کہ وہ اسکو اصل مالک یا وارث کی طرف لوٹا دے اور اگر وہ ان کو نہیں جانتا تو وہ اس مال سے چھٹکارے کیلئے اسکو خیر کے کاموں میں خرچ کرے یا پھر اصل مالک کی طرف سے صدقہ کر دے۔

2- اگر کسی آدمی نے حرام کام پر مزدوری حاصل کی تو مزدوری لینے والے کو چاہیئے کہ وہ ان کو خیر کے کاموں میں خرچ کر دے البتہ جس سے لی ہے اس کو واپس نہ کرے کیونکہ ایک تو یہ گناہ میں مدد اور تعاون کے مترادف ہے اور دوسرا ایک ہی آدمی کے پاس عوض اور معوض منہ جمع ہو جائے گا اور ان دونوں کا ایک ہی آدمی کے پاس جمع ہونا ناجائز ہے۔

3- اگر کسی آدمی نے کسی سے سودی فوائد حاصل کیے یعنی سود کے ذریعے پیسے بھٹورے اگر وہ جس سے یہ سودی فوائد حاصل کیے گئے ہیں باربار اس طرح کے معاملات کرتا ہے اور اس طرح معاملات کرنے پر اصراری بھی ہے تو اسکو یہ پیسے یا رقم واپس نہ کی جائے بلکہ خیر کے کاموں میں خرچ کر دی جائے۔

4- اگر حرام مال کو بعینہ اصل مالک کی طرف لوٹا ناممکن نہ ہو تو اس پر قبضہ کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اگر اصل مالک کو جانتا ہے۔ تو اس مال کی مثل یا قیمت اسکو لوٹا دے اور اگر نہیں جانتا تو وہ مال کی مثل یا قیمت خیر کے کاموں میں خرچ کر دے یا پھر اسکی طرف سے صدقہ کر دے۔