زکوٰۃ

2054

تجارت کے سامان کی زکوٰۃ

تجارت کے سامان کی تعریف

تجارت کا سامان

تجارت کا سامان ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو منافع کی نیّت سے خرید و فروخت کے لیے تیار کیا گیا ہو۔

لوہے کی تصویريد
کپڑوں کی تصویر
گاڑی کی تصویر
لکڑیوں کی تصویر

تجارت کے سامان کو عروض اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ایک حالت پر نہیں رہتا۔ کبھی کیا ہوتا ہے اور کبھی کیا۔ کیونکہ تاجر کا مقصود خاص مال نہیں ہوتا بلکہ اسکا مقصد وہ منافع ہوتا ہے جو اسکو نقود کی شکل میں ملتا ہے۔

تجارت کا سامان پیسوں یعنی نقود کے علاوہ اموال کی تمام اقسام کو شامل ہے جیسے گاڑیاں، سلے ہوئے کپڑے، ان سلے کپڑے لوہا اور لکڑی وغیرہ یعنی ہر وہ چیز جو تجارت کی غرض سے بنائی گئی ہو۔

تجارت کے سامان میں زکوٰۃ کا حکم

تجارت کے سامان کی زکوٰۃ واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " اے ایمان والو تم خرچ کیا کرو ان پاک اموال میں سے جو تم کھاتے ہو "۔

جمہور علماء فرماتے ہیں کہ اس آیت سے مراد تجارت کے سامان کی زکوٰۃ ہے۔ اللہ عزّوجل سورۃ توبہ میں فرماتے ہیں " اے محمدؐ ان کے اموال میں سے صدقہ لو تاکہ وہ صدقہ ان کے اموال کو پاک کر دے "

اور تجارت کا سامان ہی وہ چیز ہے جس پر اموال کی تعریف سو فیصد صادق آتی ہے۔ اس لیے اس میں زکوٰۃ واجب ہے۔

تجارت کے سامان میں زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط۔

1۔ تجارت کے سامان کی قیمت نصاب تک پہنچی ہوئی ہو اور نصاب کا تعیّن سونے اور چاندی کے نصاب کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

2۔ اس پر سال گذر چکا ہو۔

3۔ تیسری شرط یہ ہے کہ وہ تجارت کی غرض سے تیار کیا گیا ہو اور وہ یہ کہ اس میں منافع اور کمائی کا مقصد اور ارادہ کیا گیا ہو کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں " تمام اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے "۔[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

اگرکسی آدمی نےپہلے تجارت کی نیّت کی پھر وہ نیّت تبدیل کر کے اس سامان کو ذاتی استعمال میں لانے کی نیّت کر لی تو سال ٹوٹ جائیگا اور اسکا اعتبار نہیں کیا جائیگا۔

اور اگر اس نے دوبارہ تجارت کی نیّت کر لی تو سال کے دنوں کا شمار نئے سرے سے کیا جائیگا یعنی اس کی نیّت کے وقت سے سال شروع ہو گا۔

لیکن اگر اس نے زکوٰۃ سے بچنے کے لیے تجارت کی نیّت ترک کی تو پھر اسکا یہ حیلہ نہیں چلے گا اور سال برقرار رہے گا اور اس پر زکوٰۃ واجب ہو جائے گی۔

مثال کے طور پر اگر کسی نے محرم کے مہینے میں تجارت کی نیّت سے زمین خریدی اور شعبان کے مہینے میں اس نے اپنی نیّت تبدیل کر دی اور اس زمین پر رہنے کے لیے مکان بنانے کا ارادہ کر لیا تو سال منقطع ہو جائیگا۔

پھر اگر اس نے اس زمین کے بارے میں شوال میں دوبارہ تجارت کی نیّت کر لی تو سال کا شمار نئے سرے سے یعنی اس کی نیّت کے دن سے کیا جائیگا۔ لیکن اگر اس نے یہ سارا کام زکوٰۃ سے چھٹکارے کے لیے کیا تو پھر اس کا یہ حیلہ نہیں چلے گا۔ بلکہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔

تجارت کے سامان سے زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ

جب سال گذر جائے تو جو سامان بیچنے کے لیے خریدا تھا اسکی بازار میں اس وقت کی قیمت کے مطابق قیمت لگائی جائے گی۔ تو پھر فقیر اور غریب کی ضرورت کے مطابق اس میں سے یا اسکی قیمت میں سے زکوٰۃ نکالی جائیگی۔

تاجر تجارت کے سامان کی زکوٰۃ کیسے شمار کرے گا؟

1۔ جو کچھ اسکے پاس ہے اسکی موجودہ قیمت کے اعتبار سے قیمت لگائے گا۔

2۔ جو نقدی اس کے پاس ہے چاہے اسکو تجارت میں استعمال کیا ہو یا نہ کیا ہو اسکو اسکے ساتھ ملا دے گا۔

3۔ جو اس نے لوگوں سے قرض لینا ہے اسکو بھی ساتھ جمع کر دے۔

4۔ جو اس نے قرض دینا ہے اسکو اس سارے مجموعے میں سے نفی کر دے۔

5۔ جو باقی رہ جائےگا اس میں سے 100 روپے پر2.5 روپے کے حساب سے زکوٰۃ نکالے گا۔ یعنی تاجر تجارت کے سامان کی قیمت کو اور جو اس نے قرض لینا ہے لوگوں سے، کے ساتھ جمع کرے گا اور 100 میں سے 2.5 کے حساب سے زکوٰۃ نکالے گا۔

تجارت کی زکوٰۃ کے حساب کے لیے زکوٰۃ واجب ہونیوالے دن موجودات یعنی موجودہ چیزوں کو دیکھا جائے گا اور ان کی قیمت لگائی جائے گی اور نفع اور نقصان کو با لکل نہیں دیکھا جائے گا۔

ڈھانپنے اور اٹھانے کے لیے استعمال ہونے والی چیزوں کو اگر بیچنے کی غرض سے نہ خریدا گیا ہو تو اسکی قیمت نہیں لگائی جائے گی اور اگر انکی قیمت لگانے سے تجارت کے سامان کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہو تو پھر انکی قیمت لگائی جائے گی۔

مثال کے طور پر وہ خاص قسم کے بیگ جن کی علیحدہ قیمت لگائی ہوتی ہے اور اگر قیمت میں بڑھوتی نہ آئی ہو تو پھر قیمت نہیں لگائی جائے گی۔ مثال کے طور پر کسی چیز کو ڈھانپنے کے لیے استعمال ہونیوالے کاغذ وغیرہ۔

اور سامان کی قیمت ایسی لگائی جائیگی جو ہر تاجر کے لیے قبول ہو چاہے وہ سارا سامان خریدے یا آدھا خریدے اور اس قیمت سے سال کے آخر میں وہ سامان خریدا جا سکتا ہو یعنی مناسب قیمت لگائی جائے گی۔ بیچنے والی اور بازاری قیمت نہیں لگائی جائیگی۔

اور اگر قیمتیں تبدیل ہو جائیں یعنی زکوٰۃ واجب ہونے والے دن قیمت کم ہو اور زکوٰۃ کی ادائیگی والے دن قیمت بڑھ جائے تو زکوٰۃ واجب ہونیوالے دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائیگا۔ [دیکھئے! موجودہ دور میں زکوٰۃ کے مسائل پر بلائی گئی ساتویں کانفرنس کے متفقات۔]

ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونیوالے سامان کی زکوٰۃ قبض سے پہلے مالک پر واجب ہوتی ہے۔ اور خریدے ہوئے سامان پر قبضہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ شرط اور وصف پائی جائے جو سامان کی خریدوفروخت کے وقت لگائی گئی تھی۔

مثال کے طور پر اگر خرید و فروخت کے وقت یہ شرط لگائی گئی کہ بیچنے والا اپنی بندرگاہ پر سامان اسکے حوالہ کرے گا تو اس صورت میں سامان کو کشتی یا بحری جہاز کے حوالہ کرتے ہی خریدنے والا اسلکا مالک بن جائے گا اور اگر خرید و فروخت اس بنیاد پر کی گئی کہ بیچنے والا خریدنے والے کی بندرگاہ پر سامان اسکے حوالہ کرے گا تو پھر خریدنے والا اس سامان کا اس وقت مالک بنے گا جب یہ سامان اسکی بندرگاہ پر پہنچ جائے۔

اگر تجارت کا سامان مختلف قسم کی کرنسیوں پر مشتمل ہو یا سونا اور چاندی ہو تو اسکی قیمت اس کرنسی سے لگائی جائے گی۔ جس کے ذریعے سےتاجر نے تجارت کے سامان کی قیمت لگائی تھی اور کرنسی کی اس دن کی قیمت کا اعتبار کیاجائے گا جس دن زکوٰۃ واجب ہوئی تھی۔

تجارت کا وہ سامان جسکی قیمت مشتری(خریدار) ادا کر چکا ہو لیکن وہ سامان ابھی تک بائع (بیچنے والا)کے قبضہ میں ہو تو ان ادا شدہ پیسوں کی زکوٰۃ مشتری پر نہیں بلکہ بائع پر واجب ہو گی۔

وہ خام مواد جو کسی چیز کے بنانے میں شامل ہو اور وہ مواد جس کے ذریعے کسی چیز کے بنانے میں مدد ملتی ہو۔

1۔ وہ خام مواد جو کسی چیز کے بنانے کے لیے اسکے بنائے گئے مادہ میں شامل ہو۔ جیسے لوہا،گاڑیوں کے بنانے میں اور تیل صابن کے بنانے میں شامل ہوتا ہے ان میں زکوٰۃ واجب ہے، اس قیمت کے اعتبار سے جس کے ذریعے اسکو سال کے آخر میں خریدا جا سکتا ہو اور اسی اصول کے مطابق ان حیوانات، دانوں اور نباتات کی بھی زکوٰۃ دے جائے گی جو کسی چیز کے بنانے میں شامل ہوں۔

2۔ وہ مواد جو کسی چیز کے بنانے میں تو شامل نہ ہوں لیکن بنانے کے لیے کار آمد اور معاون ضرور ہوں جیسے لکڑیاں مختلف چیزوں کے بنانے کے لیے تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

3۔ اس سامان کی زکوٰۃ جو ابھی تک نہ بنایا گیا ہو اور وہ سامان جس کی بناوٹ ابھی تک نہ ہوئی ہو۔

4۔ دونوں پر زکوٰۃ واجب ہے اور سال گذرتے ہی وہ جس حالت میں ہو گا اس کی قیمت لگائی جائے گی اور اس کے مطابق زکوٰۃ دے دی جائے گی۔

- تجارت کے سامان کے ساتھ زکوٰۃ کے وجوب کے کسی اور سبب کو ملانا۔

اگر تجارت کے سامان کے ساتھ زکوٰۃ کے وجوب کی کوئی اور چیز ملا دی گئی جیسے کھیتی تو سب کو تجارت کا سامان سمجھا جائے گا اور اس کے مطابق زکوٰۃ دی جائے گی۔ [قضایا فقھہیہ معاصرہ د/صلاح الصاوی ص 54 اور اسکے بعد]

مال کی وہ قسمیں جس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

- دریا سے نکلی چیزوں پر زکوٰۃ نہیں ہے جیسے موتی، مرجان یعنی چھوٹے موتی اور مچھلی وغیرہ۔ ہاں اس وقت ان پر زکوٰۃ واجب ہے جب یہ تجارت کا سامان بن جائیں۔

- وہ سامان جن کو کرایہ پر دینے کے لیے تیار کیا گیا ہو یا بنایا گیا ہو جیسے زمینیں اور گاڑیاں تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ ہاں ان کے ذریعےحاصل کیے گئے کرایہ کی رقم پر زکوٰۃ ہے۔ جب وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گذر جائے۔

- جن چیزوں کو انسان اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرتا ہے جیسے گاڑی اور گھر ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

رأس المال پر زکوٰۃ

تجارت کے اموال میں سے رأس المال کی زکوٰۃ نکالی جاتی ہے۔ وہ مال جس کےذریعے منافع کے حصول کے لیے تجارت یا خریدوفروخت کی جاتی ہےالبتہ وہ اموال یا وہ چیزیں جن میں سامان کو محفوظ کیا جاتا ہے۔

جیسے الماریاں، فریج اور گاڑیاں جن میں سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا ہے اور وہ آلات جن کے ذریعے سامان کو اٹھایا جاتا ہے وغیرہ میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

نصاب کا مالک ہونا

کیا پورا سال ابتدا سے انتہا تک نصاب کا مالک ہونا شرط ہے؟ یا شروع سال اور آخر میں نصاب کے مالک ہونے کا اعتبار کیا جائے گایا سال کے آخر میں نصاب کی ملکیّت کا اعتبار کیا جائے گا؟شروع اور آخر سال میں نصاب کی ملکیت کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ سارے سال میں مال کی قیمت لگانا مشکل ہے تو سال کے شروع میں نصاب کی ملکیّت کا اعتبار اس لیے کیا جائے گا کہ یہ زکوٰۃ کے وجوب کا سبب ہے۔

اور سال کے اخر میں نصاب کی ملکیّت کا اعتبار اس لیے کیا جائے گا کہ یہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا وقت ہے اور مسلمان کے لیے آسان یہ ہے کہ وہ کوئی خاص مہینہ جیسے رمضان کا مہینہ یا اور اس جیسا مہینہ مقرّر کرے اور اس خاص مہینے میں مال کی قیمت لگائے اور زکوٰۃ ادا کرے۔

حصوں کی زکوٰۃ

حصّوں کی تعریف

حصے

مشترکہ فیکٹری یا کارخانے میں برابری کے وہ اجزاء یا حصے جو شرکاء کے ہوتے ہیں، کو حصے کہا جاتا ہے۔

اسکی مثال یہ ہے کہ ایک مشترکہ فیکٹری یا کارخانہ ہے جس کا بنیادی سرمایہ 3 ملین ڈالر ہے اور یہ بنیادی سرمایہ فیکٹری کے افتتاح کے وقت 10 ہزار اجزاء پر مشتمل تھا اور ہر ایک جزء 300 ڈالر تھا۔اور یہ ایک جزء ایک حصہ ہے۔ اور ان حصوں کا مالک فیکٹری میں اپنے حصوں کے اعتبار سے شریک ہے۔

حصوں کی ہیر پھیر کا حکم

حصوں کی ہیر پھیر یعنی ان کے ساتھ تجارت کرنا جائز ہے۔ جب تک فیکٹری کسی حرام کی مرتکب نہ ہوئی ہو یعنی اس میں کوئی حرام چیز نہ بنتی ہو اور جب تک فیکٹری میں کوئی سود کا معاملہ نہ ہوتا ہو۔ اس وقت تک ان حصوں کے ساتھ فیکٹری میں تجارت کرنا جائز ہے۔

حصوں کی زکوٰۃ کی کیفیّت

- اگر فیکٹری کے چارٹر میں یہ لکھا گیا ہو کہ فیکٹری کے منتظمین سارے لوگوں کےحصوں کی زکوٰۃ مشترکہ طور پر ادا کریں گے یا پھر فیکٹری کے منتظمین ہی ادا کریں گے تو اس صورت میں منتظمین اداکریں گے جب حصے کا مالک زکوٰۃ ادا کرنے کا اختیار ان کو دے دے۔

- اگر کوئی کمپنی خود ہی اپنے ممبرز/ایمپلائز کی زکوٰۃ نکالے (تو کیا یہ درست ہے یا نہیں۔ اگر درست ہے تو کس طرح) اس حوالے سے مؤتمر اسلامی کے ذیلی ادارے مجمع الفقہ نے شریعت مطہرہ یعنی جانوروں کی زکوٰۃ کا اصول سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ تمام افراد/ملازم/کسٹمرز کو ایک فرد تصوّر کرتے ہوئے متعلّقہ کمپنی زکوٰۃ نکالے گی۔

- یوں مجموعی مالیّت میں سے زکوٰۃ ادا کرنے سے سب کی طرف سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ بعض فقہا نے اس مسئلہ کا حکم عام رکھتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ شراکت داروں کے تمام اموال ایک ہی فرد کی ملکیّت تصّور کر کے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔

- بشرطیکہ یہ جملہ اموال نصاب زکوٰۃ کو پہنچنتے ہوں۔ البتہ جمہور کی رائے یہ ہے کہ کمپنیوں کی زکوٰۃ نکالنے کے طریقہ کار میں خلطہ یعنی باہمی تمام شراکت داروں کی مجموعی املاک کو ایک تصور کر کے زکوٰۃ نہیں دی جائے گی۔

بلکہ ہر شریک کے حصے علیحدہ کیے جائیں گے۔ ہر ایک کے حصے کا الگ الگ اعتبار ہو گا۔ جس کی ملکیّت میں اتنا مال ہو جو نصاب زکوٰۃ کو پہنچتا ہے تو اس میں سے کمپنی/شریک زکوٰۃ ادا کرے گا ورنہ نہیں۔

- قابل ذکر بات یہ ہے کہ مجمع البحوث الاسلامیہ نے اپنی دوسری کانفرنس میں جمہور کے رائے کو معیار بناتے ہوئے درج ذیل فیصلے کئے ہیں:

1۔ وہ کمپنیاں/ادارے جس میں لوگ حصہ دار ہوں تو مذکورہ بالا زکوٰۃ کے احکامات (زکوٰۃ کا حکم) تمام حصہ داروں کے مجموعی منافع پر نہیں لاگو ہو گا بلکہ ہر شریک/شراکت دار/حصہ دار کا الگ اعتبار کر کے اس کی ملکیّت میں آنے والی مالیت اور منافع پر زکوٰۃ ہو گی بشرطیکہ

2۔ اور ایسی صورتحال میں کہ جب کمپنی ہر حصہ دار کی الگ الگ زکوٰۃ نکالے تو کمپنی کے ذمہ لازم ہے کہ وہ شراکت دار یا حصہ دار کی زکوٰۃ نکالتے ہوئے اس کی ملکیت میں سے اموال جن پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ۔

کو علیحدہ کر کے زکوٰۃ کا حساب کرے گی جیسے وقف شیئرز، وہ شیئرز جو حصہ دار نے کسی رفاہی ادارے کے لیے وقف کئے ہوں اور وہ اموال جن پر زکوٰۃ نہیں ہوتی جیسے گھر، دفتر، فرنیچر، گاڑی وغیرہ اور ضروریات زندگی کی دوسری اشیاء۔

3۔ اور اگر کمپنی خود سے اپنے حصہ داروں یا شیئرز ہولڈرز کی زکوٰۃ نہ نکالے تو یہ خود شیئر ہولڈرز پہ لازم ہے کہ وہ درج ذیل طریقہ کے مطابق اپنی زکوٰۃ ادا کریں۔

1۔ اگر کاشتکاری کے شیئرز ہیں تو پھر ان شیئرز پر وہی احکامات لاگو ہوں گے جو زراعت پیداوار اور پھلوں پر ہوتے ہیں۔ جس طرح ان کی زکوٰۃ نکالی جاتی ہے ایسے ہی ان شیئرز کی بھی نکالی جائیگی۔

2۔ اور اگر تجارتی شیئرز ہیں کسی کمپنی کے تو اس صورت میں اصل مال تجارت اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کی مجموعی مالیت پر زکوٰۃ ہو گی/ دونوں کی مجموعی مالیت کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائیگی۔ البتہ وجوب زکوٰۃ (زکوٰۃ واجب ہوتے وقت) ان شیئرز کی مارکیٹ میں قیمت کا اعتبار کیا جائےگا اور اس قیمت کے لحاظ سے زکوٰۃ نکالی جائیگی۔

3۔ اور اگر صنعتی کمپنیوں کے شیئرز ہیں تو پھر منافع پر زکوٰۃ ہو گی۔ سازو سامان اور عمارتوں وغیرہ پر نہیں ہو گی۔

4۔ اگر کوئی شیئر ہولڈر اپنے (شیئرز/حصص) دوران سال/سال کے درمیان فروخت کرتا ہے تو جب اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی تو حصص کی قیمت بھی ساتھ ملائے گا زکوٰۃ نکالتے ہوئے اور ان حصص کا خریدار بھی مذکورہ طریقہ کے مطابق زکوٰۃ دے گا۔ [قضایا فقھہیہ معاصرہ د/صلاح الصاوی ص 54 اور اسکے بعد]