زکوٰۃ

2412

زکوۃ کے مستحقین اور اسکا نکالنا

زکوٰۃ کے مستحق

اہل زکوٰۃ وہ لوگ ہیں جو زکوٰۃ کے مستحقین ہیں۔زکوٰۃ کے مستحقین: آٹھ قسم کے لوگ ہیں جن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ میں کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " صدقے صرف فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لیے اور ان کے لیے جن کے دل پرچھائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور راہدومسافروں کے لیے فرض ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم اور حکمت والا اہے " ﴿التوبۃ:۶۰ ﴾

1- فقیر

الفقراء

فقیر کی جمع ہے جسکے پاس اپنی ضرورت، گھروالوں کی ضرورت یعنی کھانا پینا، کپٹرے اور مکان وغیرہ کیلئے کچھ نہ ہو ۔

اور اسے زکوٰۃ میں سے اتنا دیا جائے گا جو اس کے لیے اور اس کے گھر والوں کے لیے ایک سال تک کافی ہو۔

2- المساکین

المساکین

المساکین مسکین کی جمع ہے جسکے پاس اپنی ضرورت کا آدھا ہو یا اس سے زیادہ ہو مثلاً اس کے پاس سو روپے ہوں اور وہ دو سو کا محتاج ہو تو زکوٰۃ سے اسکو اتنا دیا جائے گا جو اس کے لیے اور اس کے گھر والوں کے لیے ایک سال تک کافی ہو۔

3- زکوٰۃوصول کرنے والے

العاملون علیھا

عامل وہ لوگ ہیں جو بادشاہ کی طرف سے زکوٰۃ لینے پر مامور ہوتے ہیں تو زکوٰۃ سے انکو اجرت انکے کام کے مطابق دی جائیگی اگرچہ وہ مالدار ہی ہوں۔ کیونکہ عامل نے اپنے آپ کو اس کام کیلئے فارغ کیا ہے۔ ہاں اگر انکو حکومت کی طرف سے کوئی اجرت یا تنخواہ ملتی ہوتو پھر انکو زکوٰۃ سے نہیں دیا جائیگا اور وہ سب لوگ عاملین میں داخل ہیں جو زکوٰۃ کے وصول کرنے میں اسکے لکھنے میں اسکی حفاظت میں اور اسکو مستحق لوگوںمیں تقسیم کرنے پر مامور ہوتے ہیں۔

عاملین زکوٰۃ کو زکوٰۃ دینا
عامل زکوٰۃ اور قرض دار کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اگرچہ وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو اور اگر کوئی تندرست آدمی طلب علم کے لیے نکلتا ہے تو اسکو بھی زکوٰۃ دینا ٹھیک ہے کیونکہ علم حاصل کرنا جہاد کے مترادف ہے اور یہی حکم حقیقی مجاہد اور مؤلفۃ القلوب کا ہے ہاں البتہ اگر کوئی شخص نفلی عبادت کے لیے کنارہ کشی/گوشہ نشینی اختیار کرتا ہے تو اسکو زکوٰۃ دینا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ عابد کا نفع اسکی ذات تک محدود ہے اور علم کا نفع پورے مسلمان معاشرے کے لیے ہے۔

4- ان لوگوں کا بیان جن کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے زکوٰۃ دی جا تی ہے۔

مؤ لفۃ قلوب

مؤلفۃ القلوب کسی قوم کے بڑے لوگوں، سرداروں کو زکوۃ اس لیے دینا کہ وہ اسلام یا ایمان لے آئیں یا ان کے شر سے بچا جائے یا ان کے ایمان مضبوط ہو جائیں یا ان کو مسلمانوں کے دشمنوں سے ملنے سے روکا جائے۔اور زکوٰۃ سے انکو انکے دل کی نرمی کے بقدر دیا جائیگا۔

انکو زکوٰۃ میں سے اتنا دیا جائے گا کہ ان کے دل اسلام کی طرف راغب ہو جائیں۔

۵۔غلام

الرقاب

غلام اور مکاتب: جو اپنے آقا سے اپنے آپ کو خریدلےتو زکوٰۃ سے اسکو اتنا دیا جائے گا کہ وہ کتابت کا قرض ادا کرسکے۔

تاکہ وہ مکمل طور پر آزاد اور تصرف کرنے والا بن جائے اور معاشرت کا نفع بخش رکن بن سکے اور کامل طریقے سے اللہ کی عبادت کر سکے اور اسی میں وہ مسلمان قیدی جن سے آزادی کے لیے فدیہ مانگا گیا ہو ان کو زکوٰۃ میں اتنے پیسے دینے جائز ہیں کہ وہ اپنے آپ کو آزاد کراسکیں۔

6- مقروض

الغارمون

غارم کی جمع ہے جس پر قرض ہو۔

اور غارم دو طرح کے ہیں:

۱۔ جس پر اپنی ضرورت کی وجہ سے قرض ہو تو اگر وہ فقیر ہے تو اسکو زکوٰۃ میں سے اتنا دیا جائے گا کہ وہ قرض ادا کر سکے۔

۲۔ جس پر دومسلمان گروہوں کے درمیان صلح کرانے کی وجہ سے قرض ہو تو مالدار ہونے کے باوجود اس کو زکوٰۃ میں سے اتنا دیا جائے گا جس وہ اپنے قرض کو اتار سکے۔

7- اللہ کے راستے میں

فی سبیل اللہ

ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔

تو ان لوگوں کو اتنا دیا جائے گا جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے کافی ہو جائےاور اس میں بہت سے دعوت کے کام داخل ہیں جن کو جہاد کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔

8- مسافر

ابن السبیل

وہ مسافر جسکا مال سفر میں ہی ختم ہو جائے۔

وہ مسافر جس کے پاس کرایہ ختم ہو جائے تو اسکو اتنی زکوٰۃ دینی جائز ہے جس سے وہ اپنے شہر تک پہنچ سکے اگرچہ وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو۔

تنبیہات

۱۔ زکوٰۃ مذکورہ آٹھ قسموں کے علاوہ کسی کو بھی نہیں دی جا سکتی اگرچہ وہ نیکی اورخیر کے کام کیوں نہ ہوں جیسے مسجد بنانا، مدارس، ہسپتال بنانا اور اسکے علاوہ وہ کام جن میں صدقے کا مال لگایا جا سکتا ہو۔

2۔ زکوٰۃ ادا کرنے میں یہ ضروری نہیں ہے کہ آٹھوں قسم کے افراد کو زکوٰۃ دی جائے بلکہ ایک قسم کے لوگوں کو زکوٰۃ دینا بھی کافی ہے۔

جن کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔

۱۔ مالدار اور قوی کمانے والے

آپ کے قول کیوجہ سے " اور اس میں کسی مالدار یاقوی کمانے والے کاکوئی حق نہیں ہے "۔[ روایت کیااسکو ابو داؤدنے]

۲۔ اصول، فروع، بیوی اور وہ جن کا نفقہ آدمی پر لازم ہے۔

ان لوگوں کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے جن کا نفقہ مسلمان پر فرض ہے جیسے آباواجداد ، مائیں اور دادیاں، بچے اور پوتے وغیرہ کیونکہ انکو زکوٰۃ دینے سے وہ ان پر خرچ کرنے سے مستعفی ہو جاتا ہے حالانکہ ان پر خرچ کرنا اس پر واجب ہے۔

تو اس سے اسکی زکوٰۃ کا فائدہ اسی کی طرف لوٹ آتا ہے جو کہ جائز نہیں ہے اس لیے ان کو زکوٰۃ دینا بھی جائز نہیں ہے۔

3۔ مؤلفۃ القلوب کے علاوہ کافر

ان کفار کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے جنکی تالیف قلبی مقصود نہ ہو۔ آپؐ نے فرمایا: " زکوٰۃ ان کے مالداروں سے لے کر ان کے غریبوں میں تقسیم کیا جائے گا یعنی زکوٰۃ امیر مسلمانوں سے لے کر غریب مسلمان کو دی جائے گی " ۔[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

کیونکہ زکوٰۃ کے مقاصد میں یہ ہے کہ غریب مسلمانوں کو مالدار بنایا جائے اور ان کےساتھ محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کی جائے اور اس طرح کا تعلق کفار کے ساتھ جائز نہیں ہے تو انکو زکوٰۃ بھی دینی جائز ہے۔

4- رسولؐ کی اولاد [آل النبی ، بنو ہاشم ہیں]

نبی کریم ؐ کی آل نبیؐ کو انکی شرافت اور اعزاز کی وجہ سے زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ آپؐ نے فرمایا کہ " صدقات لوگوں کی میل ہے یہ نہ محمدؐ کے لیے حلال ہے اور نہ ہی اسکی آل کے لیے "[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کی ہے]

5- آل نبی کے غلام

موالی آل نبیؐ کےوہ غلام ہیں جنکو آ پؐ کی آل نے آزاد کیا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ " صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں ہے اور کسی قوم کے غلام اس قوم سے ہی ہوتے ہیں "۔[ یہ حدیث امام ترمذی نے روایت کی ہے]

ان میں سے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا حکم بھی آل نبیؐ کے حکم کی طرح ہے یعنی زکوٰۃ انکے آزاد کردہ غلاموں پر بھی حرام ہے۔

6- غلام

غلام کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے کیونکہ غلام کا مال اسکے آقا کی ملکیت ہے تو جب اسکو زکوٰۃ دی جا ئیگی تو وہ اسکے آقا کی طرف منتقل ہو جائیگی۔ کیونکہ غلام کا نفقہ اسکے آقاکے ذمے ہے لیکن اس سے مکاتب غلام خارج ہے۔

مکاتب غلام کو اتنا دیا جائےگا جس سے وہ عقد کتابت کا قرض اتار سکے اور عامل غلام بھی خارج ہے اگر غلام زکوٰۃ اکٹھی کرنے پر مامور ہو تو اس کو زکوٰۃ میں سے دیا جائے گا کیونکہ وہ ملازم کی طرح ہے۔ اور غلام کو اسکی آقا کی اجازت سے اجرت پرلیا جا سکتا ہے۔

زکوٰۃ نکالنا

اسکا وقت

اگر کسی شخص کا مال اسکے قبضے میں ہو تو اس پر زکوٰۃ نکالنا فوراً واجب ہو جاتا ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کو صرف ضرورت کے تحت مؤخر کرنا جائز ہے جیسا کہ اسکا مال کسی اور ملک میں ہو یا کسی اور کے قبضے میں ہو۔

زکوٰۃ کے فوراً نکالنے پر دلیل سورۃ انعام کی آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں" اور اس میں جو حق واجب ہے وہ اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو اور حد سے مت گزرو۔ "

اور اللہ تعالیٰ سورۃ نور میں فرماتے ہیں" نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ تعالیٰ کے رسولؐ کی فرمانبرداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے " اور کسی چیز کا حکم بھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ کام فوراً کیا جائے۔

اسکی جلدی کا حکم

دو سال یا دو سال سے کم عرصہ کے لیے وقت سے پہلے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وقت سے پہلے ادائیگی کرتے ہوئے اسکا نصاب پورا ہو۔

زکوٰۃ کے نکالنے کی جگہ

افضل تو یہ ہے کہ زکوٰۃ اسی شہر میں نکالی جائےجس میں مال ہو۔ لیکن کسی حاجت کیوجہ سےایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا جائز ہے جیسا کہ دوسرے شہر میں زکوٰۃ ادا کرنے والے کہ مستحق رشتہ دار رہائش پذیر ہوں تو اپنے قریبی رشتہ داروں کو دینا زیادہ افضل ہے کیونکہ اس میں مصلحت ہے اور صلہ رحمی کا درس ہے۔

اور زکوٰۃ کو منتقل کرنا جائز اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول میں عموم پایا جاتا ہے یعنی مطلق فقراء اور مساکین کا ذکر ہے نہ کہ خاص کا۔ ۔

کونسا مال زکوٰۃ میں دیا جائے اور کونسا نہیں۔

زکوٰۃ درمیانے مال میں سے نکالی جائے۔ ضروری یہ ہے کہ مال نہ زیادہ اچھا ہو اورنہ زیادہ برا۔ اس لیے چوپایوں میں سےموٹا تازہ جانور یا حاملہ یا ایسا نر جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچا ہو تو ان سب کو زکوٰۃ میں دینا لازم نہیں ہے۔

اسی طرح بہترین مال سے خام مال کو بطور زکوٰۃ دینا ٹھیک نہیں ہے۔ ہاں اگر اسکا سارا مال خام ہے تو اس صورت میں جائز ہو گا۔ یہی صورت چوپاؤں میں بھی ہے اگر اسکے تمام جانور بیمار ہیں تو پھر بیمار جانور زکوٰۃ میں دے سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لیے نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو۔ ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا، جسے تم خود لینے والے نہیں ہو۔ ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بے پروا اور خوبیوں والا ہے "

اور حدیث میں آتا ہے " صدقہ میں بوڑھا اور عیب دار جانور نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی غیر بالغ بکرا، البتہ اگر زکوٰۃ دینے والا دینا چاہے تو دے سکتا ہے "[اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

اور رسولؐ اللہ نے حضرت معاذ سے فرمایا " لوگوں کے بہترین مالوں سے دور رہو "[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

تنبیہات

۱۔ زکوٰۃ دینے والے پر لازم ہے کہ وہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ کے مستحقین ڈھونڈے، غیر مستحق کو زکوٰۃ نہ دے کیونکہ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں " زکوٰۃ میں مالدار اور مضبوط کمانے والے کا کوئی حق نہیں ہے "[ اس حدیث کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

زکوٰۃ کا زیادہ مستحق
زکوٰۃ دینے والے پر لازم ہے کہ وہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے سب سے زیادہ مستحق کو ڈھونڈے جو جتنا زیادہ مستحق ہو گا سکو زکوٰۃ دینا اتنا ہی زیادہ بہتر ہے جیسے غریب رشتہ دار کو اور غریب طالب علم کو زکوٰۃ دینا دوسروں کو زکوٰۃ دینے کی نسبت بہتر اور افضل ہے۔

زکوٰۃ میں اہم معلومات

زکوٰۃ میں قیمت

زکوٰۃ میں اصل تو یہ ہے کہ جس چیز پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اس سے زکوٰۃ نکالنا چاہیےلیکن حاجت اور مصلحت کے پیش نظر بھی جائز بھی ہے۔

زکوٰۃ کے ساتھ حکومت کا تعلق

اصل زکوٰۃ کا مال وہ بادشاہ کے ساتھ مختص ہے اور زکوٰۃ دینے والے خود زکوٰۃ نہیں نکالیں گے۔ ۔ لیکن اگر بادشاہ اس سے باز رہیں تو پھر مسلمان خود ادا کریں گے اور ادا نہ کرنے کی صورت میں ان سے پوچھ گچھ ہو گی۔

مستحقین کی مصلحت کیلئے زکوٰۃکے مال کی سرمایہ کاری کرنا۔

زکوٰۃ کے مال کی سرمایہ کاری کرنا جائز ہے کسی نفع مند پر وجیکٹ میں جو مستحقوں کو فائدہ دے۔ اگر جلدی سے کوئی فائدہ مند پروجیکٹ نہ مل رہا ہو تو فوری طور پر تقسیم کر دیا جائے۔

کیا مال میں زکوۃ کے سوا بھی کوئی حق ہے ٹیکسزز کی طرح

-زکوۃ شریعت کی طرف سے مقرر کردہ حق ہے اور اسکا ادا کرنا مالداروں پر واجب ہے۔ اور مال میں زکوۃ کے علاوہ اور بھی حقوق ہیں جن کی مقدار معلوم نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ زکوۃ کی طرح ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے وجوب کا سبب مال ہے بلکہ وہ عارضی اسباب کی وجہ سے واجب ہو جاتے ہیں اور مال کا ہونا ان کے وجوب کی شرط ہے جیساکہ والدین و عزیز و اقارب کا نفقہ اور بیوی کا نفقہ اور اگر بیت المال کی رقم کافی نہ ہو تو مصیبت زدوں سے مصیبت دور کرنے کیلئے مال خرچ کرنا۔

- ٹیکس کبھی بھی زکوۃ کے قائم مقام نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ انصاف کی بنیاد پر ہو کیونکہ زکوۃ اللہ کی عبادات میں سے ایک عبادت ہے اور ٹیکس شہری حق ہے تو اس لیے دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے کے قائم مقام نہیں ہو سکتا۔