زکوٰۃ

1310

نفل صدقہ

نفل صدقے کی تعریف

نفل

جو اللہ کا قرب حاصل کرنے کیلئے ادا کیا جائے اور آدمی پر اس کی ادائیگی فرض نہیں ہوتی۔

اور اس تعریف کے ساتھ وہ ہدیے جو محبت کیوجہ سے دیئے جاتے ہیں نکل جاتے ہیں۔ اس تعریف کے ساتھ وہ تمام صدقات بھی نکل جاتے ہیں جو احکام شریعہ کی وجہ سے واجب ہوتے ہیں۔

نفل صدقے کا حکم

نفل صدقہ تمام اوقات میں مستحب ہوتے ہیں اور خاص کر حاجت کے وقت اور کتاب اور سنت رسول میں اس کی تغیب دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں !" کوئی ایسا بھی ہےجو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ سے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے "

حضرت ابو ھریرہ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا " جس نے اپنے پاک اور حلال مال میں سے کھجور برابر صدقہ کیا (اور اللہ تعالیٰ پاک اور حلال مال کو ہی قبول کرتے ہیں)۔ پس اللہ تعالیٰ اسکو قبول فرما کر اس میں صدقہ کرنے والے کے لیے برابر نشونما کرتے رہتے ہیں(جس طرح آپ میں سے کوئی ایک اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتے ہوئے اس میں برابر اضافہ کرتا رہتا ہے یا اس میں برابر نشونما ہوتی رہتی ہے) یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے "[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

وہ آدمی جو اللہ کی رضا کے لیے چھپا کر صدقہ کرتا ہے اسکو رسولؐ اللہ نے ان سات آدمیوں میں شمار کیا ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے۔

پس رسولؐ اللہ فرماتے ہیں " اور وہ آدمی اللہ کے عرش کے سایہ کے نیچے ہو گا جس نے اللہ کی رضا کے لیےچھپا کر اس انداز سے صدقہ دیا کہ بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ دائیں ہاتھ سے کیا دیا گیا ہے "[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

حضرت کعب بن عجرہ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ " صدقہ گناہ کو ایسے مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو مٹاتا ہے "[ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کی ہے]

نفل صدقے کے آداب

1- وہ آداب جن کا لحاظ کرنا واجب ہے۔

1- پہلی شرط۔ اخلاص یعنی اللہ کی خوشنودی کیلئے دے رہا ہو کہ نہ دکھلاوے کے لیے۔

2۔ احسان اور گندگی سے بچتے ہوئے “اے ایمان والو اپنے صدقات کو احسان اور گندگی کے ذریعے باطل نہ کرو۔

2- مستحب آداب

أ۔ وہ قریبی رشتہ دار جن کا نفقہ مسلمان پر لازم نہیں ہوتا انکو صدقہ دینا مستحب ہے جیسے اسکے چچے، ماموں اور بیوی کا اپنے غریب خاوند کو صدقہ دینا ان رشتہ داروں کو صدقہ دینا باقی لوگوں کو صدقہ دینے سے بہت بہتر ہے ۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں " یا بھوک والے دن کھانا کھلانا کسی رشتہ دار یتیم کو "

اورحدیث نبویؐ میں آتا ہے"غریب اور مسکین کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے یعنی صرف ایک صدقہ کا ثواب ملتا ہے اور رشتہ داروں کو صدقہ دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی یعنی دونوں کا ثواب ملتا ہے "[ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]

ب۔ اپنے مال میں سے حلال بہترین اور انسان کو سب سے محبوب مال صدقہ میں دینا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہر گز بھلائی نہ پاؤ گے اور تم جو خرچ کر تے ہو اسے اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا ہے "

ج۔ چھپ کے صدقہ دینا مستحب ہے کیونکہ یہ اخلاص کے بہت قریب ہے۔ ریا اور شہرت سے بہت دور اور عزّت و اکرام کے بہت قریب ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " اگر تم صدقہ خیرات کو ظاہر کر دو تو وہ بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیدہ مسکینوں کے دو دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے "

اگر صدقہ کے اظہار میں لوگوں کو صدقہ دینے پر ابھارنا ہو تو پھر لوگوں کے سامنے صدقہ دینا مستحب ہے بشرطیکہ نیّت ٹھیک ہو۔

د۔ جو کچھ موجود ہے اسکو صدقہ میں دینا مستحب ہے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ رسولؐ اللہ فرماتے ہیں " آگ سے ڈرو اگرچہ کھجور کے ایک حصے کے برابر ہو "[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

نفل صدقے کے فائدے

پہلے : ان فوائد کا بیان جن کا تعلق فرد کے ساتھ ہے۔

1۔ صدقہ دینے سے نفس کی پاکی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے جس کے ذریعے سے آپ ان کو پاک صاف کر دیں اور ان کے لیے دعا کیجئے "

2۔ صدقہ دینے میں رسولؐ اللہ کی تابعداری اور اقتداء ہے کیونکہ رسولؐ اللہ انتہائی قسم کے سخی تھے اور غربت اور فقر سے لا پرواہ ہو کر خرچ کیا کرتے تھے اور حضرت بلال سے فرمایا کرتے تھے " اے بلال اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو اور اس بات سے نہ ڈرو کہ اللہ تعالیٰ آپ کے مال کو کم کر دے گ "[ اس حدیث کو بزار نے روایت کیا ہے]

3۔ جو کچھ صدقہ میں دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اسکا پورا پورا بدلہ دیتے ہیں اور اس سے آدمی کا رزق کشادہ کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " کہہ دیجیے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا ہے تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اسکا پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے "

4۔ صدقہ مال میں اضافے اور زیادتی کا سبب ہے۔ کیونکہ وہ انعام کرنے والے کی نعمتوں کا شکریے کو ظاہر کرتا ہے۔ اور شکر کرنے والے کے ساتھ اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ نے فرمای" اگر تم شکر کرو گے میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ "

دوسرا: وہ فوائد جن کا تعلق معاشرے سے ہوتا ہے۔

1۔ صدقہ سے معاشروں کے لیے زکوٰۃ کے مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے۔

2۔ باہمی کفالت، تعاون، استقرار اور محبت کی فضا مسلم معاشرے میں پیدا ہوتی ہے۔