نماز کے احکام

1808

نماز استسقاء

استسقاء کی تعریف

استسقاء

خشکی کے موسم میں بارش کے لیے دعا۔

نماز استسقاء کی مشروعیت کی دلیل

نماز استسقاء سنت مؤکدہ ہے۔ آپ ﷺ کے فعل کی وجہ سے جیسا کہ حدیث عبداللہ بن زید رضي الله عنه میں ہے کہ "آپ ﷺ نماز گاہ کی طرف نکلے بارش طلب کی اور قبلہ رُخ ہوئے اور اپنی چادر کو الٹا کیا اور دو رکعت نماز استسقاء ادا کی"۔[ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

صلاۃ الاستسقاء کا وقت

جب زمین خشک ہو جائے یا چشموں اور کنوؤں کے پانی کم ہو جائیں یا نہریں خشک ہو جایئں تو اس وقت بھی نماز استسقاء مسنون ہے۔مستحب یہ ہے کہ نماز استسقاء سورج کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد ادا کی جائے اور یہ وقت سورج کے طلوع ہونے کے بعد 45 منٹ کا ہوتا ہے۔

مقام نماز استسقاء

اور مناسب یہ ہے کہ نماز استسقاء باہر یا میدان میں ادا کی جائے۔ ہاں اگر کوئی مجبوری ہو تو مسجد میں بھی ادا کی جا سکتی ہے۔

نماز استسقاء کا طریقہ

1۔ نماز استسقاء کی دو رکعتیں ہیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے۔ دونوں رکعتوں میں جہری قراءت کرے گا۔

2۔ نمازی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد سات تکبیریں کہے اور دوسری رکعت میں سجدے سے قیام کی تکبیر کے علاوہ پانچ تکبیریں کہے۔

3۔ نمازی ہر تکبیر میں اپنے ہاتھوں کو بلند کرے اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کرے اور تکبیرات کے دوران نبی ﷺ پاک پر درود بھیجے۔

4۔ نماز کے بعد امام خطبہ دے گا۔ اس میں استغفار اور قرآن کی تلاوت کرے گا اور خشوع و خضوع کے ساتھ دعائے منقولہ کا ورد کرے اور خوب عاجزی اور انکساری کا اظہار کرے۔ اپنے ہاتھوں کو خوب بلند کرے۔

5۔ امام قبلہ رخ ہو کر اپنی چادر کو اس طرح لپیٹے کہ چادر کا جو حصہ دائیں طرف ہے اسکوبائیں کندھے پر کر دے اور اپنے رب کے حضور خوب گڑ گڑا کر دعا مانگے۔

نماز استسقاء کے احکام

1۔ پہلے لوگوں کو وعظ اور نصیحت کرے تاکہ لوگوں کےدل نرم ہوں اور گناہوں سے تو بہ کی تلقین کرے اور مستحق کو اسکا حق لوٹانے کی خوب تربیت دے

کیونکہ ظلم ہی بارش کے نہ ہونے کابڑا سبب ہے تو گناہوں سے توبہ دعا کی قبولیت اور خیر اور برکت کا بڑا سبب ہے اور لوگوں کو صدقے پر ابھارے کیونکہ صدقہ رحمت کا سبب ہے۔

2۔ ایک دن اسکےلیے متعیّن کر دے تاکہ لوگ اس کے لیے تیار ہو جائیں۔

3۔ نماز استسقاء کے لیے خشوع و خضوع اور عاجزی کے ساتھ جانا مسنون ہے اور خوبصورتی اور تزئین کرنا درست نہیں ہے۔

حضرتابن عباس رضي الله عنه " آپ ﷺ کا طریقہ بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نماز استسقاء کے لیے نکلے کہ انہوں نے کوئی زیب و زینت نہیں کی تھی۔ عاجزی اور انکساری کے ساتھ نماز گاہ کیطرف تشریف لے گئے"[ اس حدیث کو امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے]

4۔ نماز استسقاء میں کثرت سے استغفار کرے اور دونوں ہاتھوں کوبلند کرنے کے ساتھ دعا کرے۔

بارش کے وقت مستحب ہے۔

بارش میں ٹھہرنا مستحب ہے کیونکہ آپ ﷺ نے ایسا کیا ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ تھے یہاں تک کہ بارش شروع ہو گئی۔ آپ ﷺ نے اپنا کپڑا کھولا تاکہ اسے بارش پہنچ سکے۔ہم نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا تو آپ ﷺ نے جواب دیا کہ یہ اللہ رب العزت سے ایک نیا عہد ہے"۔[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

بارش اللہ عزّوجل کا فضل ہے
مسلمانوں کے لیے یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ بارش اللہ کے فضل کے ساتھ اترتی ہے۔ اور وہ اپنے بندوں پر رحمت کرتا اور ایسا نہیں جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر بارش فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہوئی اور یہ شرک ہے۔