نماز کے احکام

2235

نماز کے احکام

1۔ بیٹھنے والے کی نماز

ا۔ نفلوں میں

بیٹھنے والے کی نماز نفلوں میں صحیح ہے اور اسکو کھڑے ہونیوالے کا آدھا اجر ملے گا۔ رسول ﷺ اللہ نے فرمایا «اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو افضل ہے اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسکے لیے کھڑے ہونیوالےکا نصف اجر ہے اور جو لیٹ کر نماز پڑھے تو اسکے لیے بیٹھنے والے کا آدھا اجر ہے”[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

اگر کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھی تو اسکے لیے پورا اجر ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے «جب بندہ بیمار ہو جاتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اسکے لیے اتنا اجر ہے جتنا قیام کرنیوالے تندرست کے لیے ہے“[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

ب۔ فرض کے بیان میں

قیام پر قادر شخص بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ سکتا۔

2۔ نیّت کا بیان

نیّت کے احکام :

1۔ دوران نماز نیّت کو توڑنا جائز نہیں ہے جوشخص نیّت کرے کہ اسکی نماز ٹوٹ جائے تو اسکی نماز ٹوٹ جائیگی۔ اور دوبارہ نماز کی ابتدا کرنا لازم ہو جائیگا۔

2۔ جس نے نفل نماز کی نیّت کی تو اسکے لیے جائز نہیں ہے کہ اسکو فرض کی طرف پھیرے۔

3۔ جس نے اکیلے فرض نماز کی نیّت سے نماز شروع کی پر جماعت آگئی تو اس کے لیے جائز ہے کہ اپنی نیّت کو نفل کی طرف پھیرلے اوردو رکعت نماز نفل پورا کرے۔ پھر سلام پھیرے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھے۔

3۔ فاتحہ کی قراءت

نمازی پر فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اگرچہ وہ جھری نماز ہی کیوں نہ ہو۔

حضرت عبادہ بن صامت سے مروی ہے فرماتے ہیں «ہم فجر کی نماز میں رسول ﷺ اللہ کے پیچھے تھے تو آپ ﷺ کو قراءت کرنے میں مشکل ہونے لگی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایاشاید تم امام کی اقتداء میں قرات کرتے ہو؟ ہم نے کہا جی ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ ! تو آپ ﷺ نے فرمایا تم ایسا نہ کیا کروصرف فاتحہ پڑھ لیا کرو۔ پس جو فاتحہ نہ پڑھے اسکی نماز نہیں ہے”[ امام ابو داؤد نے اس کو روایت کیا ہے]

4۔ آمین کہنا

آمین کہنا: نمازی کا قول آمین۔ وہ ہر نمازی کے لیے سنت ہے۔ چاہے وہ امام ہو، مقتدی ہواکیلا ہو، فرض نماز پڑھنے والا ہو یا اکیلا۔ برابر ہو وہ سری نماز میں ہو یا جھری نماز میں ہو۔

سری نماز میں آہستہ کہے اور جھری نماز میں بلند آواز سے کہے اور اسکی دلیل نبی کریم ﷺ کا قول ہے «جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ پس جسکی آمین ملائکہ کی آمین کے موافق ہو گئی تو اسکے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے”[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

5۔ امام کے سکتات

1۔ تکبیر اور قراءت کے درمیان خاموشی،دعا استفتاح کی وجہ سے۔

2۔ سورۃ فاتحہ اور اسکے بعد والی سورۃ کے درمیان سکتہ کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔

3۔ قراءت ختم ہونیکے بعد رکوع سے پہلے کا سکتہ۔

6۔ فرض اور نوافل کی ادائیگی میں جھر کی صورتیں

جب نماز فوت ہو جائے اور اس نے اسکی قضاء کا ارادہ کیا ہےتو کیا آہستہ قراءت کرے یا اونچی آواز میں تو اعتبار نماز کا ہو گا قضاء نمازکے وقت کا نہیں ہو گا۔ اگر اس نے دن میں جھری نماز قضاء کی تو جھر کرے۔ اور نوافل میں آہستہ پڑھنا سنت ہے۔ لیکن صلاۃ تراویح اور خسوف میں جھرہوگا کیونکہ دلائل موجود ہیں۔

7۔ دونوں ہاتھوں کا بلند کرنا۔

ہاتھوں کو بلند کرے مندرجہ ذیل مقامات میں۔

1۔ احرام کی تکبیر کے وقت

2۔ رکوع کی تکبیر کا وقت

3۔ رکوع سے کھڑے ہوتے وقت

4۔ پہلے تشھد کے بعد قیام کی طرف جاتے ہوئے۔

8۔ رکعت کو پالینا

جب مقتدی رکوع کو امام کے ساتھ پا لے تو تحقیق اس نے رکعت پا لی۔ آپ ﷺ کے قول کی وجہ سے «جس نے رکوع کو پا لیا اس نے رکعت کو پا لیا”[ امام ابو داؤد نے اس کو روایت کیا ہے]

9۔ اطمینان

اطمینان ارکان نماز میں سے ایک رکن ہے۔ اسکے بغیرنمازدرست نہیں ہوتی۔ کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضي الله عنهسے مروی ہے “بے شک رسول ﷺ مسجد میں داخل ہوئے، ایک آدمی آیا اور نماز پڑھی، پھر آیا اور آپ ﷺ کو سلام کیا آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا۔ اور فرمایا “لوٹ جا اور نماز پڑھ بے شک تو نے نماز نہیں پڑھی، پس وہ لوٹ گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھی” پھر آپ ﷺ کی طرف آیا اور سلام کیا آپ ﷺ نے فرمایا “تجھ پر سلامتی ہو” پھر فرمایا “لوٹ جا اور نماز پڑھ بے شک تم نے نماز نہیں پڑھی” یہاں تک کہ تین مرتبہ ایسا ہوا۔ آدمی نے کہا قسم ہے اسکی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا ۔ مجھے سکھلائیے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا “جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو تکبیر کہہ اور جو آسان ہو اسکی قرات کرے۔ پھر رکوع کر حتیٰ کہ تو رکوع میں اطمینان محسوس کرے پھر اٹھ کھڑا ہو، یہاں تک کہ سیدھا ہو جائے۔ پھر سجدہ کر حتیٰ کہ تو سجدہ میں بھی اطمینان محسوس کرے، اطمینان کے ساتھ بیٹھ جائے اور اسی طرح ساری نماز میں کر”[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

10۔ زبان کو حرکت دینا

قرآن، تکبیرات اور اذکار کی قراءت میں محض دل کی قراءت کافی نہیں ہے۔ بلکہ اسکو بولنا بھی ضروری ہے اور کم از کم زبان اور دونوں ہونٹوں کو قراءت کے دوران حرکت دینا۔

11۔ سجدے کا طریقہ

سجدہ سات ہڈیوں پر ہوتا ہے۔کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے»جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اسکے ساتھ سات اجزاء سجدہ کرتے ہیں۔ اسکا چہرہ، ہتھیلیاں، گھٹنے،پاؤں”[ اس پر بخاری اور مسلم کا اتفاق ہے]

12۔ انگلیوں کے ساتھ اشارہ کرنا

تشھد میں انگلیوں کے ساتھ اشارہ کرنا سنت ہے۔ حدیث وائل بن حجر کی وجہ سے «میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ انھوں نے اپنی انگلی بلند کی اور حرکت دینے لگے اور دعا کرنے لگے۔”[ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]

غیر مناسب افعال

- نیّت کو اونچی آواز میں کہنا۔ اور یہ کہنا کہ نیّت کو تکبیر احرام کے ساتھ ملانا ضروری ہے۔

- والشکر، کے الفاظ کو ربنا ولك الحمد کے ساتھ زیادہ کرنا۔ یہ زیادتی رسول ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔

- لفظ- آپ ﷺ پر سیّدنا کا اضافہ کرنا تشھد میں یا درود میں ۔

- سلام کے وقت دائیں جانب ، دائیں ہاتھ ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرنا اور بائیں جانب بائیں ہاتھ کے ساتھ۔

- نمازیوں کا آپس میں مصافحہ کرنا اور ان میں سے کسی کا کہنا حرمًا اور دوسروں کا جمعًا۔

- جیسا کہ بعض لوگ نماز کے بعد آیت الکرسی کی قرات کرتے ہیں اور اسکے بعد کہتے “ سبحان الله فيسبحون....الخ”

- دعا اور ذکر کے بعد چہرے کو چھونا۔