پاکی

1899

برتن

برتن کی تعریف

برتن

وہ برتن جن میں پانی اور اس سے ملتی جلتی چیزیں محفوظ کی جاتی ہیں-

سونے اور چاندی کے برتن کا استعمال

1- کھانے اور پینے میں

ان کا استعمال حرام ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور اس کی تھالیوں میں نہ کھاؤ کیونکہ یہ ان کفار کے لیے تو دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں "[یہ حدیث متفق علیہ ہے]

اور جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "جو چاندی کے برتن میں پیتا ہے بے شک وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھرتا ہے "[یہ حدیث متفق علیہ ہے]

سونے کے برتن میں کھان
چاندی کے برتن میں کھان

2- کھانے اور پینے کے علاوہ

ان کا استعمال کھانے اور پینے کے علاوہ جائز ہے جیسا کہ وضو وغیرہ کیونکہ سابقہ حدیث صرف کھانے اور پینے سے متعلق تھی کیونک"ہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ ان کے پاس ایک چاندی کا گھنگھرو تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کے بال مبارک تھے-"[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

چاندی کا لوٹا وضو کے لیے

چاندی سے آراستہ برتنوں کا استعمال

ایسے برتنوں کا استعمال جن میں ضرورت کے تحت تھوڑی چاندی استعمال ہوئی ہو کیونکہ یہ ثابت ہے "کہ رسول اللہ ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا تو انہوں نے اس کو چاندی کی تار سے جوڑلی- "[اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

چاندی سے پیوند شدہ برتن کا استعمال
مردوں کے لیے سونے کا پہننا
مرد کے لیے سونا پہننا جائز نہیں ہے- حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ "کا ارشاد گرامی ہے کہ میرے امت کے مردوں پر ریشم اور سونا حرام کیا گیا ہے اور عورتوں کے لیے حلال قرار پایا ہے- " [اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]